عبدالمالک بلوچستان کے وزیراعلیٰ نامزد

عبدالمالک بلوچ (فائل فوٹو)

میاں نواز شریف نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے دیگر عہدوں کے بارے میں فیصلے بعد میں کیے جائیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ طے پایا ہے کہ گورنر بلوچستان کے لئے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار کو نامزد کیا جائے گا۔
پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادیوں نے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں بلوچ قوم پرست رہنما ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو وزیراعلیٰ نامزد کیا ہے۔
اسلام آباد کے قریب مری کے پرفضا سیاحتی مقام پر اتوار پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو سے مذاکرات کے بعد مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف نے ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی محرومیوں کو دیکھتے ہوئے اور اس کے بہتر مستقبل کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔

’’سب سے زیادہ تعداد (بلوچستان اسمبلی میں) اس وقت مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے لیکن جو ہم کہتے آئے ہیں اسے سچ ثابت کرنے کے لئے مسلم لیگ (ن) نے ایثار کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نام پر اتفاق کیا ہے۔‘‘

بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی نامزدگی کا معاملہ چند مشکل وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار تھا جس میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر کی اس عہدے کے لئے بھر پور خواہش اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کا مطالبہ کہ وزیراعلیٰ یا گورنر کے عہدے پر پختون عوام کے نمائندے کو نامزد کیا جائے۔

میاں نواز شریف نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے دیگر عہدوں کے بارے میں فیصلے بعد میں کیے جائیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ طے پایا ہے کہ گورنر بلوچستان کے لئے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار کو نامزد کیا جائے گا۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالرحیم مندوخیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنے مطالبے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا ’’آئین کے علاوہ روایتی راستے بھی تو ہوتے ہیں۔ کراچی میں گورنر دس سال رہا ہے یا نہیں؟ کیوں رہا؟ ایک کمیونٹی نے وہاں کہاں کہ ہمارے حقوق خطرے میں ہیں تو ہمارے تو عوام پاکستان بنانے والوں میں شامل تھے تو پھر اس کے لئے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ ابھی روایتی طور پر بنا دو پھر بعد میں آئین میں ترمیم ہوسکتی ہے۔‘‘

نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو نے اپنی جماعت کے امیدوار کی نامزدگی پر مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم بلوچستان کے لوگوں کو بھی خوش خبری دیتے ہیں کہ جہاں گزشتہ دس سالوں میں گولیوں سے چھلنی لاشیں، جبری گمشدگیوں جیسے مسائل پیدا ہوئے ہمارا ان سے عہد ہے، مسلم لیگ کا، میاں نواز شریف اور محمود اچکزئی کا عہد ہے کہ اب وہ بند ہوگا۔ اب ہم کرنے نہیں دیں گے۔‘‘

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق بلوچستان کے 65 رکنی ایوان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی بالترتیب 19، 14، 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑا سیاسی اتحاد ہے۔ اسمبلی میں دیگر اراکین کا تعلق جمیعت علماء اسلام (ف)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور وحدت المسلمین سے ہے۔