ٹرمپ کی ٹوئٹ کو سرکاری امریکی پالیسی تصور نہیں کرتے: وزیراعظم عباسی

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کی جانے والی ٹوئٹ کو پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی کا حصہ نہیں تصور نہیں کرتے۔

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "سرکاری پالیسیوں کا ٹوئٹس کے ذریعے تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ اجلاسوں یا سرکاری دستاویزات کے ذریعے بتائی جاتی ہیں۔"

یکم جنوری کو صدر ٹرمپ نے سال نو کی اپنی پہلی ٹوئٹ میں پاکستان سے متعلق سخت زبان استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تھا امریکہ گزشتہ 15 سالوں میں 33 ارب ڈالر سے زائد ادا کر چکا ہے اور پاکستان نے امریکہ کو صرف جھوٹ اور دھوکہ ہی دیا ہے۔

اس ٹوئٹ پر پاکستان کی طرف سے خاصا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا جب کہ دونوں جانب سے بیان بازی کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع ہو گیا اور دونوں ملکوں کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ دیکھا جانے لگا۔

وزیراعظم عباسی سے جب پوچھا گیا کہ ان کے پاس ٹرمپ کی ٹوئٹ پر کوئی ردعمل ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت 'سادہ' (بات) ہے۔ "زمینی حقائق اس بات کی حمایت نہیں کرتے جو صدر ٹرمپ کہہ رہے ہیں۔ ہم انسداد دہشت گردی کی جنگ میں اپنے عزم پر قائم ہیں اور اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔"

انھوں نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے۔

"ہمارے دو لاکھ فوجی آج بھی مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، ہمارے 6500 فوجی ماے جا چکے ہیں۔ ہم نے اسی دشمن کو شکست دی ہے جسے دنیا افغانستان میں شکست دینے میں ناکام رہی۔"

پاکستانی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 15 سالوں سے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تنزلی کا شکار رہے ہیں اور ان کے بقول امریکہ ان کے ملک کو کوئی اقتصادی امداد فراہم نہیں کرتا رہا اور عسکری اعانت بھی قابل ذکر نہیں۔

امریکہ نے پاکستان پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے عسکری امداد معطل کر دی ہے کہ وہ اپنے ہاں ان دہشت گردوں خصوصاً حقانی نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کر رہا جو افغانستان میں دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔

اسلام آباد ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں اور اس کے بقول عسکریت پسندوں نے سرحد پار ان افغان علاقوں میں پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں جہاں افغان حکومت کی عملداری نہیں اور ان کے خلاف کارروائی افغان فورسز اور افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کو ہی کرنا ہوگی۔