ریکوڈک کیس، سرمایہ کاری عدالت کی جانب سے پاکستان پر تقریباً چھ ارب ڈالر جرمانہ عائد

پاکستانی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، ریکوڈک سے متعلق سات سال پرانے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے، سرمایہ کاری کے تنازعات کے حل کے لیے قائم بین الاقوامی عدالت نے پاکستان پر پانچ ارب 80 کروڑ ڈالر سے زائد جرمانہ عائد کیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ’انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹز‘ نے پاکستان پر 4.08 ارب ڈالر کا ہرجانہ، جب کہ پاکستان ٹیتھیان کمپنی کو 1.87 ارب ڈالر سود ادا کیے جانے کا حکم صادر کیا ہے۔

اس سے قبل سال 2011ء میں پاکستانی عدالت عظمیٰ نے منصوبے کا معاہدہ منسوخ کیا تھا، جس کی وجہ کو عدالتی ٹربیونل نے ’’ناکافی‘‘ قرار دیا ہے۔

نئی رپورٹ 700 صفحات پر مشتمل ہے۔

سال 2011ء میں اچانک مائننگ لیز روک دی گئی تھی۔ پاکستان ٹیتھیان کمپنی کا کہنا تھا کہ اس نے ریکوڈک منصوبے کی مائننگ پر 22 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، اپیل کے حق کو استعمال کرتے ہوئے، پاکستان ہرجانے کے فیصلے کو چیلنج کرے گا۔

ٹیتھیان کمپنی کو سونے، تابنے کے ذخائر کی تلاش کا لائسنس جاری ہوا تھا، جب کہ ریکوڈک معاہدہ 2011ء میں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے دور میں منسوخ ہوا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ سماعت کے دوران نامور سائنس دان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے پاکستان کی جانب سے گواہی دیتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ ریکوڈک سے ڈھائی ارب ڈالر سالانہ جب کہ مجموعی طور پر 131 ارب ڈالر حاصل ہونا تھے۔

ٹیتھیان کو سنہ 1993 میں بلوچستان کے علاقے چاغی میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔

پاکستان سپریم کورٹ نے سال 2011ء میں یہ منصوبہ کالعدم قرار دیتے ہوئے، کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا تھا۔

کمپنی نے عالمی بینک کے ثالثی ٹربیونل میں 16 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔