فوجی عدالتوں کے خلاف وکلا کی بڑی تنظیم کا عدالت عظمیٰ سے رجوع کا فیصلہ

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر فضل الحق عباسی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق قانون سازی بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کے قومی لائحہ عمل کے تحت ملک میں دہشت گردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ تو کیا اور پارلیمان نے اس ضمن میں آئینی ترمیم بھی منظور کی لیکن اس اقدام کی مختلف سماجی حلقوں خصوصاً وکلا کی بڑی نمائندہ تنظیموں کی طرف سے مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس آئینی ترمیم کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر رکھا ہے جب کہ اب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر فضل الحق عباسی نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق قانون سازی بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ موجودہ نظام عدل کو بہتر اور موثر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

"بنیادی طور پر جب تک تفتیشی نظام کو بہتر نہیں کیا جائے گا اور وہاں دیانت دار اور قابل افراد کو مقرر نہیں کیا جائے گا اور استغاثہ کو بہتر نہیں بنایا جائے گا اور عدالتیں تو شہادتوں کو دیکھیں گی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جو موجودہ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں ہیں وہاں یہ مقدمات چلنے چاہیئں اور ایک متوازی عدالتی نظام قائم کرنا مناسب بات نہیں ہے"۔

گزشتہ بدھ کو عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے 15 روز میں جواب پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت اور ان کے اتفاق کے بعد کیا گیا اور یہ اقدام پاکستان کو درپیش مخصوص حالات میں مخصوص وقت کے لیے کیا جا رہا ہے۔

سینٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس اقدام کا مکمل دفاع کیا جائے گا اور جن لوگوں کو بھی اس پر تحفظات ہیں انھیں دور کیا جائے گا۔

"میں یہ سمجھتا ہوں اخلاقی طور پر وہ لوگ جنہوں نے اس میں (فوجی عدالتوں کے قیام میں) حصہ میں ڈالا تھا ان کو سیاسی طور پر اس کا دفاع کرنا چاہیئے یہ ایک وقت اور مخصوص حالات کے لیے ہیں اور وہ جو یقینی طور پر دہشت گرد ہوں گے ان کے لیے ہیں اور یہ فوج پر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ کسی کو پکڑ کر فوجی عدالت لے جائیں اور ان کو سزا دلوائیں ۔ ان عدالتوں میں وہ مقدمات چلائے جائیں گے جن کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی"۔

گزشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے مختلف اقدامات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس حملے میں 134 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اسے ملکی تاریخ کا بدترین دہشت گرد واقعہ قرار دیا گیا۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف بھی فوجی عدالتوں کے قیام کا دفاع کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اس میں صرف دہشت گردی کے مقدمات چلائے جائیں گے اور ملزمان کو اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا۔