اسرائیل مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا ’واضح نظام الاوقات‘ دے: عباس

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر عباس نے کہا کہ اِن علاقون کو حاصل کرنے کے لیے اقوام متحدہ ایک قرارداد منظور کرے۔ عباس کے مشیروں نے کہا ہے کہ یہ ٹائم ٹیبل تین برسوں پر محیط ہوگا

فلسطینی صدر محمود عباس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے ایک ’واضح نظام الاوقات‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر عباس نے کہا کہ اِن علاقون کو حاصل کرنے کے لیے اقوام متحدہ ایک قرارداد منظور کرے۔ عباس کے مشیروں نے کہا ہے کہ یہ ٹائم ٹیبل تین برسوں پر محیط ہوگا۔

اسرائیل نے دو ملکی حل کے تصور کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم، آئندہ کی اس فلسطینی ریاست کی سرحدوں کے بارے میں اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کار مدتوں سے اختلافات کا شکار رہے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے فلسطینی شدت پسند گروپ کے درمیان حالیہ تنازعے کے دوران، فلسطینی عہدے داروں نے اسرائلیوں پر جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے۔


مسٹر عباس کے اقوام متحدہ کے اس خطاب سے ایک ہی روز قبل اُن کی فتح تنظیم اور حماس نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی اتحادی حکومت غزہ کی پٹی کا کنٹرول حاصل کرلے گی۔

فتح اور حماس، جو غزہ پر حکمراں ہے، اتحادی حکومت تشکیل دینے سے اتفاق کیا ہے، جس سے پہلے اسی سال کے اوائل میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔