پشاوردھماکے، خواتین خود کش حملہ آوروں کا استعمال

پشاوردھماکے، خواتین خود کش حملہ آوروں کا استعمال

خیبر پختونخواہ کے صدر مقام پشاورمیں جمعرات کی صبح کسی خاتون کی جانب سے کیا جانے والا یہ ملکی تاریخ کا تیسرا خودکش حملہ تھا۔ اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں دو خواتین خود کش حملوں میں 57 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تاریخ کا پہلا حملہ گزشتہ سال 25 دسمبر کو باجوڑ کے ہیڈ کوارٹر خار میں ہوا ۔اس حملے میں 45 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ دوسرا حملہ پچیس جون دو ہزار گیارہ کو ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں تھانے پر ہوا جس میں 12 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

سانحہ پشاور :سات ماہ میں دہشت گردی کا 20 واں واقعہ

پشاور میں دو ماہ کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے کوئی بڑی کارروائی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم سال دو ہزارگیارہ میں اب تک پشاور میں 4 بڑے خود کش حملوں اور دھماکوں سمیت دہشت گردی کے 19 واقعات پیش آچکے ہیں جن میں مجموعی طور پر 147 افراد لقمہ اجل بنے ۔

چار بڑے واقعات میں سے دو فروری کو بڈھ بیر پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا جس میں 11 اہلکار شہید ہوئے ، 9 مارچ کو پشاور میں نماز جنازہ کے دوران دھماکے میں 47 افراد لقمہ اجل بنے، 25 مئی کو سی آئی ڈی سینٹر پر دھماکے میں 10 اور 11 جون کو خیبر سپر مارکیٹ دھماکے میں 39 افراد کی قیمتی جانوں کا ذیاں ہوا۔

خواتین خود کش حملہ آور: سیکورٹی اداروں میں خطرے کی گھنٹی

مبصرین کے مطابق بم دھماکے میں دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر خاتون کا استعمال کر کے ملکی سیکورٹی اداروں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ۔خواتین کا خودکش حملے کرنا یا دہشت گردی میں ملوث ہونا انتہائی تشویشناک امر ہے۔ یہ اس بات کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود دہشت گردی کو ابھی تک جڑ سے ختم نہیں کیا جاسکا اور دہشت گرداس حد تک منظم ہیں کہ انہوں نے نوجوانوں، بچوں اور اب خواتین کو بھی ذہنی طور پر اپنے مذموم مقاصد کے لئے تیار کرلیا ہے ۔مبصرین کے مطابق خواتین کا خود کش حملوں میں استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردی کا پودا اندر ہی اندر پنپ رہا ہے اور دہشت گرد ابھی بھی ایک لمبی اننگز کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔