بلوچ رہنما گزین مری کوئٹہ پہنچنے پر گرفتار

فائل

نواب زادہ گزین مری پر ایک کالعدم بلوچ عسکری تنظیم کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے اور پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے کے الزامات بھی ہیں۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری مرحوم کے بیٹے نواب زادہ گزین مری کو جمعے کو دبئی سے کو ئٹہ پہنچنے پر پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گزین مری کو بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ جسٹس نواز مر ی کو 2000ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔

بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ میر سر فراز بگٹی نے گزین مری کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے وطن واپس آنے پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی اُن کی آمد کسی ڈیل کا نتیجہ ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ گزین مری کو جلد ہی عدالت میں پیش کر دیا جائے گا اور عدالت سے ریمانڈ حاصل کرکے ان کے خلاف درج مقدمات کے بارے میں اُن سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

گزین مری جمعے کو متحدہ عرب امارات سے کوئٹہ پہنچے تھے جہاں ہوائی اڈے پر بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ میر ہمایوں خان مری اور مری قبیلے کے لگ بھگ 200 افراد اُن کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

گزین مری جب دبئی سے پہنچنے والے طیارے سے باہر آئے تو پولیس اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں نے اُن کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

نواب زادہ گزین مری بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری مرحوم کے دوسرے بیٹے، بلوچستان کی صوبائی کابینہ میں شامل مری قبیلے کے موجودہ سربراہ نواب جنگیز مری کے چھوٹے بھائی، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے سابق سربراہ بالاچ مر ی اور لندن میں مقیم حیر بیار مر ی کے سوتیلے بڑے بھائی ہیں جو 18 سال کی خود ساختہ وطنی کے بعد وطن پہنچے ہیں۔

نواب زادہ گزین مری پر ایک کالعدم بلوچ عسکری تنظیم کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے اور پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے کے الزامات بھی ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگار گزین مری کی خاموشی سے پاکستان واپسی کو حکومت اور سکیورٹی حکام کے ساتھ ہونے والی کسی سمجھوتے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں لیکن حکومت ایسے کسی بھی سمجھوتے کی تر دید کر رہی ہے۔