راج کپور کی فلم ’آوارہ‘ دنیا کی 100 سدا بہار اور عظیم فلموں میں شامل

بھارتی فلمیں رہتی دنیا تک راج کپور کی احسان مند رہیں گی ۔آج ان فلموں کو جو مقام حاصل ہواہے اس میں راج کپور کا بہت بڑا کردار ہے۔ وہ ہندی فلموں کی آبرو سمجھے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ راج کپورکی فلموں کو ان کی موت کے کئی برس بعد بھی آج تک اعزازات سے نوازا جارہا ہے۔

سن پچاس کی دہائی میں بنی ان کی فلم ”آوارہ “ نے آج ایک اور سدا بہار اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ اسے شہرہ آفاق امریکی رسالے ”ٹائم“ نے 1923ء سے اب تک بننے والی”100 سدا بہار اور عظیم “ فلموں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔

”آوارہ“ راج کپور اور نرگس دت کی ایسی فلم ہے جسے بالی ووڈ فلموں کی 100سالہ تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ مضبوط کہانی، عمدہ ڈائریکشن، حقیقت سے قریب تر اداکاری اور دلکش گیتوں و دھنوں سے سجی اس فلم کا سحر آج بھی روز اول کی طرح فلم بینوں کے دلوں پر چھایا ہوا ہے ۔

’’آوارہ “کی کہانی تحریر کی تھی خواجہ احمد عباس نے جو افسانے اور کہانی کی دنیا کا بہت روشن نام تھا۔ کہانی کے بعد اس فلم کو جن دو چیزوں نے فن کی دنیا میں امر کیا وہ تھے اس کے خوب صورت گانے اور لازوال دھنیں۔مثلاً :

” دم بھر جو ادھر منہ پھیرے‘ ‘، ”گھر آیا میرا پردیسی “ اور ”اب رات گزرنے والی ہے۔۔۔“ سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ کسی بھی گانے کو اٹھالیجئے اپنے آپ میں ایک مکمل اور ناقابل فراموش نغمہ تھا۔

پھر شیلندر کے ٹائٹل سانگ ”آوارہ ہوں“تو سمجھیں اس دور کے ہر منچلے اور بے فکر نوجوان کا ترانہ بن گیا تھا ۔ان خوبصورت گانوں نے فلم کو تو سپرہٹ کیا ہی یہی گانے لتا منگیشکر، مکیش ، شمشاد بیگم، محمد رفیع اور مناڈے کو بھی گلوکاری کی دنیا میں امر کرگئے۔

1951ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم کی موسیقار جوڑی شنکر جے کشن کو اگر خراج تحسین پیش نہ کیا جائے تو یہ سب سے بڑی زیادتی ہوگی۔ اس جوڑی نے اپنی دھنوں نے پورے فلم یونٹ کو وہ آب حیات عطاکیاجو رہتی دنیا تک انہیں یاد گار بناگیا۔

” آوارہ“ کی شہرت صرف بھارت و پاکستان تک ہی محدود نہیں رہی تھی بلکہ اس کی شہرت سرحدیں عبور کرتی ہوئی چین، روس، افغانستان، جنوبی افریقہ ،ترکی اور عرب ممالک تک جا پہنچی تھی۔

راج کپور نے فلم کے مرکزی کردار کوچارلی چپلن کی ’لٹل ٹریمپ‘ سے متاثر ہوکر ترتیب دیا تھا۔ اس کردار کی ٹوپی ،چلنے پھرنے کا انداز اورلب ولہجے کی طرز کو اس دور کے ہزاروں نوجوانوں نے فخریہ طور پر اپنایا۔ دراصل یہی وہ انداز تھا جو راج کپور کے لئے بھی ایک ٹرینڈ بناگیا۔

اس فلم نے بہت سے مقامی ایوارڈز تو جیتے ہی، بین القوامی اعزازات بھی حاصل کئے۔ 1953ء میں فرانس کے شہر کینزمیں ہونے والے سالانہ فلمی میلے میں ”آوارہ“ کو ”گرینڈ پرائز“ سے نوازا گیا جو اس کی عالمگیر مقبولیت کا ثبوت تھا۔

راج کپور کو’شو مین ‘ کہا جاتا ہے۔ فلم انڈسٹری کے اس اکیلے شومین کی 1951ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”آوارہ“کا100 عظیم فلموں کی فہرست میں شامل ہو نا ’آوارہ‘کی وقت کی قید سے آزاد شہرت کا ایک اور ثبوت ہے۔