مداخلت کا الزام، تین ملکوں نے قطر سے سفیر واپس بلالیے

فائل - گزشتہ سال دسمبر میں کویت میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کا ایک منظور

بیان کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے یہ فیصلہ اپنی "سلامتی اور استحکام" کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا ہے۔
تین خلیجی ممالک - سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین - نے قطر پہ ایک سکیورٹی معاہدے پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دوحا میں تعینات اپنے سفیر واپس بلا نے کا اعلان کیا ہے۔

جمعے کو جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں تینوں ملکوں نے کہا ہے کہ قطر نے لگ بھگ تین ماہ قبل 'خلیج تعاون کونسل' کے رکن ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن اس نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے "کوئی ضروری قدم نہیں اٹھایا ہے"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 23 نومبر کو منظور کیے جانے والے سمجھوتے میں 'جی سی سی' کے رکن ملکوں نے کسی ایسے گروہ، فرد یا ذرائع ابلاغ کی پشت پناہی نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا جس سے خطے کے استحکام یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر کو معاہدے پہ عمل درآمد کرنے پر مجبور کرنے کے لیے چھ ملکی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس منگل کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوا تھا جس میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر تنظیم کے تین رکن ممالک نے دوحا سے اپنے سفیر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے یہ فیصلہ اپنی " سلامتی اور استحکام" کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سفیر واپس بلانے کے فیصلے کے باوجود تینوں ملک اب بھی قطر کو 'خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)' کا لازمی حصہ تصور کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دوحا حکومت معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔

قطر حکومت نے تینوں خلیجی ملکوں کی جانب سے اپنے سفیر واپس بلانے کے فیصلے پر "حیرت اور مایوسی" کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جلد اس مسئلے پر باضابطہ ردِ عمل ظاہر کرے گا۔

قطر کی کابینہ نے بدھ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ردِ عمل میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے اپنے سفیر واپس نہیں بلائے گا اور 'خلیج تعاون کونسل' کی سلامتی اور استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔

تنظیم کے دیگر دو ملکوں – کویت اور عمان- نے تاحال حالیہ قضیے پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن کویتی پارلیمان کے اسپیکر نے عندیہ دیا ہے کہ امیرِ کویت حالیہ تنازع میں ثالث کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے 'خلیج تعاون کونسل' کی بنیاد 1980ء کے عشرے میں ڈالی گئی تھی۔ مغرب نواز اتحاد کی شناخت رکھنے والے اس اتحاد کے چھ رکن ملکوں کا شمار تیل برآمد کرنے والے دنیا کے چند بڑے اور امیر ملکوں میں ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک قطر کے سیٹلائٹ ٹی وی اسٹیشن 'الجزیرہ' سے خائف ہیں جسے یہ ملک عرب دنیا کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت 'اخوان المسلمون' کا حامی اور اپنی حکومتوں کا ناقد قرار دیتے ہیں۔

روایتی بادشاہی نظام کے تحت چلنے والے خلیجی ممالک ماضی میں قطر کی حکومت کی جانب سے 'اخوان المسلمون' کی مبینہ پشت پناہی پر بھی برہمی ظاہر کرتے رہے ہیں جو عرب ملکوں میں موروثی شاہی نظام کی جگہ جمہوری طرزِ حکومت کے نفاذ کی خواہش مند ہے۔

حالیہ برسوں میں تنظیم کا آبادی، معیشت اور رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک سعودی عرب تنظیم کے رکن ممالک کو مشترک خارجہ پالیسی اور عالمی معاملات پر یکساں موقف اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے جس کی قطر مخالفت کرتا ہے۔

گزشتہ سال جون میں برسرِ اقتدار آنے والے قطر کے نوجوان امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے اقتدار سنبھالتے وقت بھی اپنے ایک خطاب میں خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک بین الاقوامی امور پر کسی کی ہدایت قبول نہیں کرے گا اور اپنی آزاد خارجہ پالیسی جاری رکھے گا۔