نوجوانوں میں کم خوابی کا علاج ۔۔۔ نیلے رنگ کی روشنی

نوجوانوں میں کم خوابی کا علاج ۔۔۔ نیلے رنگ کی روشنی

کئی مطالعاتی جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ ٹین ایجرز اتنا وقت نہیں سوتے جتنی کہ انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کی پڑھائی اور صحت دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روشنی کی مقدار اور اس کے بعض رنگ نیند کو بہتر بنانے میں مفید کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ٹین ایجرز پر کیے جانے والے ایک مطالعاتی جائزے میں ان کی سونے کی عادات کیے ساتھ ساتھ اس حوالے سے بھی تحقیق کی گئی کہ زرد رنگ کی روشنی ان کے سونے کے اوقات کو اس طرح متاثر کرتی ہے۔

یہ تحقیق ماریانا فگائرو(Mariana Figueiro) کی قیادت میں نیویارک کے رینسلیئر (Rensselaer) پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ کے لائٹنگ ریسرچ سینٹر میں کی گئی۔

ماریانا کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ ٹین ایجرز کے لیے صبح کے وقت اٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے، اور یہ چیز سکول میں ان کی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے۔

کچھ والدین اپنے بچوں کو رات کے وقت سونے میں مدد کے لیے انہیں دوائیں دیتے ہیں لیکن اپنی تحقیق کے ذریعے یہ جاننا چاہتی تھیں کہ آیا اس سلسلے میں کوئی زیادہ بہتر قدرتی متبادل موجود ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم جس سوال کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ کیا نوجوانوں کو نیند کی کوئی دوا یا کوئی گولی دیے بغیر انہیں جلد سونے اور صبح اٹھتے وقت زیادہ تازہ دم محسوس کرنے کے سلسلے میں روشنی کو استعمال کیا جاسکتا ہے؟

تحقیقی جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریباً 13 سال کی عمر میں سونے کے انداز میں نمایاں تبدیلی شروع ہو جاتی ہے۔ اس وقت جسم کے اندر موجود وقت کا اندازہ لگانے والا قدرتی نظام یا بایولاجیکل کلاک نئے سرے سے سیٹ ہوتا ہے اور نیند لانے میں مدد دینے والا ہارمون میلاٹونن (melatonin) دن کے بعد کے حصے میں پیدا ہوتا ہے اور روشنی اس مخصوص ہارمون کو متاثر کرتی ہے۔

ماریانا کہتی ہیں کہ اس مطالعاتی جائزے کا مقصد ٹین ایجرز کو جلد سونے کی طرف مائل کرنے کے لیے روشنی کے استعمال سے ان کے نیند کے مراحل اور انداز پر روشنی کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کرنا تھا۔

اس جائزے سے انہیں معلوم ہوا کہ اگر ٹین ایجرز زیادہ وقت صبح کی روشنی میں رہیں، خاص طور پر نیلے رنگ کی شعاعوں میں، تو ان کے سونے کا پرانا سسٹم یا ان کا باڈی کلاک بحال ہو سکتا ہے اور انہیں ایک بار پھر نیند پرانے وقت پر آسکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نیلے رنگ کی روشنی کی شعاعیں ٹین ایجرز کے اندرونی جسمانی نظام کی رفتار کو دن اور رات کے قدرتی اوقات سے ایک بار پھر ہم آہنگ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ صبح کی قدرتی روشنی نہ ملنے کی صورت میں عمومی طور پر طالب علم رات کو دیر سے سوتے ہیں۔ جائزے سے یہ بھی پتا چلا کہ سہ پہر کی دھوپ بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جائزے سے صرف یہی ظاہر نہیں ہوا کہ صبح کی روشنی ٹین ایجرز کو اپنی نیند کے پرانے وقت پر سونے میں مدد کے لیے اہم ہے بلکہ اس سلسلے میں رات کو کمرے میں جلائی جانے والی روشنی میں کمی بھی اہمیت رکھتی ہے۔

ماریانا کہتی ہیں کہ ٹین ایجرز کو چاہیئے کہ وہ سہ پہر کے وقت نیلی شعاعوں کو روکنے کے لیے زرد رنگ کے شیشوں کی عینکیں استعمال کریں۔

سونے کی ادویات سے متعلق امریکی ادارے American Academy of Sleep Medicineکا کہنا ہے کہ ٹین ایجرز کو ہر رات تقریباً نو گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بہت سے نوجوان صرف سات یا اس سے بھی کم وقت سوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کے اسکول کی کارکردگی، مزاج، رویے اور صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔

جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ نیند کی کمی موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور دوسری بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

ماریانا کہتی ہیں کہ سکول نوجوان طالب علموں کے لیے صبح کی روشنی کی مقدار میں اضافہ کر کے ان میں سونے کی اچھی عادات پیدا کرنے میں سکول اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اور وہ اس طرح کہ یا تو کلاس کے کمروں کو زیادہ روشن بنا دیا جائے یا صبح کے وقت انہیں کلاسوں سے باہر کھلی جگہ پر کچھ وقت گزارنے کی سہولت دی جائے۔