سری نگر: ابو دُجانہ کی گفتگو کی ریکارڈنگ منظرِ عام پر آگئی

ذرائع کے مطابق، لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو منگل کے روز ابو دُجانہ اور اُس کے ایک قریبی ساتھی عارف للہاری کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں مارے جانے سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی

جمعرات کو نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں مسلمان عسکریت پسندوں نے اچانک حملہ کرکے بھارتی فوج کے ایک میجر اور ایک سپاہی کو ہلاک اور ان کے ایک ساتھی کو شدید طور پر زخمی کر دیا۔

عہدیداروں کے مطابق، فوج مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ اور بھارت کے وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر شوپیان کے ایک دور دراز گاؤں میں موجود عسکریت پسندوں کا کام تمام کرنے وہاں صبح چار بجے پہنچی۔

لیکن، گھات میں بیٹھے عسکریت پسندوں نے اُن پر بیک وقت کئی اطراف سے اندھا دھند گولیاں چلادیں۔ یہ حملہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ حفاظتی دستوں کو سمبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور فائرنگ میں بھارتی فوج کا ایک افسر میجر کملیش پانڈے اور ایک سپاہی ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک اور سپاہی شدید طور پر زخمی ہوگیا۔

حملہ آور اندھیرے کا فائیدہ اُٹھاتے ہوئے علاقے سے بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اُن کی تلاش جاری ہے۔ سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین نے حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پانچ فوجیوں کو ہلاک اور کئی ایک کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تاہم، حزب المجاہدین ہی کے دو اور جنگجو ہمسایہ ضلع کلگام کے ایک گاؤں میں حفاظتی دستوں کے ساتھ ہوئے ایک مقابلے میں مارے گئے۔ پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حفاظتی دستوں کو علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملی تھی جس کے بعد وہ گوپال پورہ نامی اس گاؤں میں گھات لگا کر بیٹھ گئے اور جونہی دو عسکریت پسندوں کا وہاں سے گزر ہوا اُنہیں للکارا گیا۔ لیکن، انہوں نے حفاظتی دستوں پر گولی چلادی اور پھر طرفین کے درمیان ہوئی جھڑپ میں وہ دونوں مارے گئے۔

اِدھر جمعرات کو لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر، ابو دُجانہ اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو منگل کے روز ابو دُجانہ اور اُس کے ایک قریبی ساتھی عارف للہاری کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں مارے جانے سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی۔

ابو دُجانہ عرف حافظ کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان سے تھا اور اُس کی ہلاکت کو بھارتی حکام نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف چلائی جانے والی فوجی مُہم کی ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیدیا تھا۔

ابو دُجانہ کا نام بھارتی فوج کی طرف سے اس سال جون میں جاری کی گئی اُن بارہ افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا جنہیں "سب سے خطرناک دہشت گرد‘‘ قرار دیدیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں زندہ یا مُردہ پکڑنا فوج کی اولین ترجیح ہے۔

لیکن، جیسا کہ آڈیو سے پتہ چلتا ہے ابو دُجانہ کو ہھتیار ڈال کر خود کو حفاظتی دستوں کے حوالے کرنے کی پیشکش کی گئی تھی جو اُس نے ٹھکرا دی اور کہا کہ وہ شہید ہونے کے لئے گھر سے نکلا ہے اور اُس کی زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

اُس نے گفتگو کے دوراں اس افواہ کے تردید کر دی کہ اُس نے ایک مقامی لڑکی سے شادی کی ہے اور کہا کہ یہ اُس کے خلاف پروپیگنڈا ہے۔ آڈیو کو بھارتی ذرائع ابلاغ میں خاصی تشہیر دی جا رہی ہے اور اس پر بعض نجی ٹیلی وژن چینلوں پر بحث و مباحثے بھی ہو رہے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فون ریکارڈنگ منظرِ عام پر کیسے آگئی اس کی تحقیقات کی جائے گی۔