رسائی کے لنکس

کشمیر میں یاتریوں پر حملہ، امریکہ کی شدید مذمت


سری نگر (فائل)

بیان میں، وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری نے کہا ہے کہ ’’ہم ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ اور بھارت کے عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں‘‘؛ اور یہ کہ ’’مذہبی آزادی پر حملہ، آزادی کے انتہائی بنیادی حق کے خلاف حملہ ہے‘‘

امریکہ نے 10 جولائی کو ریاستِ جموں و کشمیر میں مذہبی تہوار منانے والے یاتریوں پر ہونے والے ’’بزدلانہ دہشت گرد حملے‘‘ کی ’’ شدید مذمت‘‘ کی ہے۔

وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری نے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہےکہ ’’امریکہ اور بھارت دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی کے خدشات سے مل کر نبردآزما ہونے کا کام جاری رکھیں گے‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ اور بھارت کے عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں‘‘۔

پریس سکریٹری نے کہا کہ ’’مذہبی آزادی پر حملہ، آزادی کے انتہائی بنیادی حق کے خلاف حملہ ہے‘‘۔

ادھر، اِس سے قبل، ’وائس آف امریکہ‘ کو سری نگر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہندو یاتریوں پر حملے سے پیدا شدہ صورتِ حال کا جائزہ لینے اور سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے منگل کو نئی دہلی اور سری نگر میں کئی اجلاس منعقد ہوئے۔

سری نگر میں ہونے والے اجلاس میں ریاست کے گورنر نریندر ناتھ ووہرا، وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی اور بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل بِپِن راوت نے بھی شرکت کی۔

بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک الگ اجلاس کیا، جس میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سمیت اعلیٰ سکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام شریک ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق، اجلاس میں مسلم اکثریتی وادیٔ کشمیر میں مسلح باغیوں اور علیحدگی پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا توڑ کرنے کے لیے صلاح مشورہ کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG