شام فوجی کارروائی، مقصد داعش کو شکست دینا: مدویدیف

فائل

ایک انٹرویو میں، دمتری مدویدیف نے کہا ہے کہ روس کے لیے یہ بات غیر اہم ہے کہ مسقتبل میں ماسوائے دولت اسلامیہ کے شام کی قیادت کس کے پاس ہوگی۔ بقول اُن کے، ’بس، یہ ایک مہذب اور جائز حکومت ہونی چاہیئے‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک کو سیاسی معاملات پر بات چیت کرنی چاہیئے

روس کے وزیر اعظم نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ شام میں روسی فوج کا مقصد اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنا اور داعش کو شکست دینا، اور صدر بشارالاسد کو اقتدار میں نہ رکھنا ہے۔

روسیہ ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، دمتری مدویدیف نے کہا ہے کہ روس کے لیے یہ بات غیر اہم ہے کہ مسقتبل میں ماسوائے دولت اسلامیہ کے شام کی قیادت کس کے پاس ہوگی۔ بقول اُن کے، ’بس، یہ ایک مہذب اور جائز حکومت ہونی چاہیئے‘۔
مدویدیف نے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک کو سیاسی معاملات پر بات چیت کرنی چاہیئے۔

ایک ہی روز قبل، روسی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں مدویدیف نے روس اور شام کے ساتھ مذاکرات سے انکار پر امریکہ پر نکتہ چینی کی۔

اُنھوں نے امریکی مؤقف کو ’بیکار‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے فضائی کارروائی کا مؤثر ہونا ’صفر‘ کے برابر ہے۔

ہفتے کے روز ایک بیان میں، روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ فضائی فوج نے شام میں 36 پروازیں کیں، جس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہما، ادلب، لتاکیہ، دمشق اور حلب کے علاقوں میں واقع داعش کے 49 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دریں اثنا، پینٹاگان نے اعلان کیا ہے کہ فوجی اتحاد کی افواج نے دو فضائی کارروائیاں کیں، جن میں شام میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا؛ جب کہ حکومتِ عراق سے رابطے میں رہ کر عراق میں 19 فضائی حملے کیے گئے۔

واشنگٹن میں جمعے کے روز، امریکی صدر براک اوباما نے روس کی جانب سے شام میں کی جانے والی کارروائی پر ایک بیان میں کہا کہ اِس ملک میں زمینی کارروائی ’کارگر ثابت نہیں ہوگی‘۔

اوباما نے کہا کہ حالانکہ روسی آچکے ہیں اور ایران مزید لوگ بھیج رہا ہے،یہ حرفتیں ’بے نتیجہ ثابت ہوں گی، کیونکہ وہ ایس ایسی حکومت کی حمایت کی کوشش کر رہے ہیں جو شام کے عوام کی اکثریت کی نگاہوں میں جائز حکومت نہیں‘۔