طالبان نے کابل دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی

مشرقی کابل میں رہائشی کمپاؤنڈ 'گرین ویلیج' کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی۔ ۔ (فائل فوٹو)

طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے، جس میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی جب کہ 100 سے زائد افراد زیر علاج ہیں۔

بین الاقوامی تنظیموں کی رہائشی کالونی کے قریب گاڑی میں پیر کو ہونے والا دھماکہ اس وقت ہوا جب امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کو دکھانے کابل پہنچے تھے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ دھماکہ مشرقی کابل میں رہائشی کمپاؤنڈ 'گرین ویلیج' کے قریب بارود سے بھرے ٹریکٹر کے ذریعے کیا گیا۔ جہاں امدادی تنظیموں سمیت بین الاقوامی گروپوں کا غیر ملکی عملہ رہائش پذیر ہے۔

نصرت رحیمی کا مزید کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے 400 غیر ملکیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، جب کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ دھماکے میں غیر ملکی افواج کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ گاڑی میں سوار خود کش بمبار نے خود کو اڑایا۔ جس کے بعد حملہ آوروں نے کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا۔

طالبان نے کابل دھماکے کی ذمہ داری ایسے وقت میں قبول کی جب امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ (فائل فوٹو)


طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا اپنی ایک ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ دھماکے میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ دھماکے کے مقام پر کسی عام شہری کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی اس لیے دھماکے میں عام لوگوں کی ہلاکت کے دعوے کی خبریں من گھڑت ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان کے سب سے بڑے ٹیلی ویژن چینل ’طلوع نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے، امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ اگر طالبان ضمانت دیتے ہیں کہ افغانستان امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔ تو پانچ ہزار کے لگ بھگ امریکی فوج کو افغانستان سے نکال لیا جائے گا اور پانچ امریکی اڈے بند کر دیے جائیں گے۔

کابل میں پیر کو ہونے والے خودکش حملے سے قبل شمالی شہر قندوز اور پل خمری میں بھی حملے ہوئے تھے جس کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

افغان امن عمل

افغانستان کے صدارتی ترجمان صادق صدیقی نے پیر کو کابل میں صحافیوں کو بتایا کہ خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی کو اس سمجھوتے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے جس پر ممکنہ طور پر جلد دستخط ہونے والے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ افغان صدر نے تفصیلات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

ترجمان نے مسودے کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ افغان حکومت مسودے کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے کر خلیل زاد کی ٹیم کو آگاہ کرے گی۔

امریکی نمائںدہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے اتوار کو ایک ٹوئٹ کے ذریعے کہا تھا کہ انہوں نے قطر میں طالبان کے ساتھ بات چیت کا نواں دور مکمل کر لیا ہے اور وہ افغانستان کے صدر کو اس بات چیت کے نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے کابل روانہ ہو رہے ہیں۔


طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے بھی اتوار کو اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ افغانستان پر غیر ملکی قبضے کے خاتمے اور افغانستان کے پر امن حل کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔