الشباب کے احمد دریہ اور مہد کراتے دہشت گرد قرار

صومالیہ

مارچ 18، 2008ء کو محکمہٴخارجہ نے الشباب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم اور خاص عالمی دہشت گرد ٹولہ قرار دیا تھا۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے الشباب کے دو لیڈروں، احمد دریہ اور مہد کراتے کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اقدام انتظامی حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے، جس میں دہشت گرد، دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنا یا دہشت گردی کی کارروائیوں کے جرائم شامل ہیں۔

محکمہٴخارجہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اعلان کے بعد، امریکہ یا اس کی تحویل میں آنے والی اُن کی کوئی ملکیت، اثاثہ یا مفاد منجمد کردیا گیا ہے، اور دریہ یا مہد کے ساتھ کسی مالی لین دین پر ممانعت ہوگی۔

ستمبر 2014ء میں الشباب کے سابق لیڈر، احمد عبدی غودانی کی ہلاکت کے بعد، احمد دریہ گروپ کے لیڈر بنے۔ غودانی کی جگہ لینے سے قبل، دریہ الشباب میں متعدد عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں، جن میں غودانی کی معاونت، سنہ 2008 میں زیریں جبہ علاقے کے الشباب کے معاون گورنر، اور 2009 میں بے اور باکول علاقون کے الشباب کے گورنر رہے۔ سنہ 2013ء میں وہ غودانی کے اعلیٰ مشیر بن چکے تھے اور الشباب کے محکمہٴداخلہ میں خدمات انجام دیں، جہاں اُنھوں نے اس گروہ کی داخلی سرگرمیوں کی نظرداری کی۔

وہ صومالیہ میں الشباب کے دہشت گرد حملوں کے سلسلے میں غودانی کے نصب العین پر یکساں سوچ کے مالک رہے ہیں، ساتھ ہی وہ القاعدہ کی عالمی نظرئے کو آگے بڑھانے میں ملوث رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مہد کراتے کو عبدالرحیم محمد ورسامع کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جنھوں نے ’امنیات‘ کے لیے کلیدی کردار ادا کیا، جو الشباب کی ایک شاخ ہے، اور جو کینیا میں غریسہ یونیورسٹی کالج میں کیے گئے حالیہ حملے میں ملوث تھی، جس میں تقریباً 150 افراد ہلاک ہوئے۔

’امنیات‘ الشباب کا خفیہ شعبہ ہے، جو صومالیہ، کینیا اور علاقے کے دیگر ملکوں میں خودکش حملے کرنے اور قتل عام میں ملوث ہے؛ اور الشباب کی دہشت گرد سرگرمیوں میں سفری انتظامی اور معاونت کے فرائض انجام دیتا ہے۔

مارچ 18، 2008ء کو محکمہٴخارجہ نے الشباب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم اور خاص عالمی دہشت گرد ٹولہ قرار دیا تھا۔