سال 2011ء کی 10کامیاب فلمیں ، بہترین فلم کا فیصلہ باقی

سال 2011ء کی 10کامیاب فلمیں ، بہترین فلم کا فیصلہ باقی

سال 2011ء تقریباً گزر گیا۔ اس سال بالی ووڈ میں فلمیں بنانے کے حوالے سے کئی تجربات ہوئے۔ سچے واقعات پر مبنی فلمیں بنانے سے لیکر سائنس فکشن تک۔ انسانی احساسات سے جذبات تک ہر موضوع پر فلموں کی بھرمار رہی۔ ان میں سے کچھ کو فلم بینوں نے ’پسند‘، کچھ کو’ بہت پسند‘ اور کچھ کو’ ناپسند ‘ٹھہرایا۔

پورے سال کی تمام فلموں کا تذکرہ یہاں کسی طور ممکن نہیں اس لئے صرف سال کی 10بڑی فلموں کی بات کرتے ہیں۔ ان فلموں کو ’بڑا‘ہونے کی بنیاد ان کی ناظرین میں پسندیدگی اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بنایا گیا ہے۔ ۔۔۔تاہم ان دس فلموں میں سے ایک بہترین فلم کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

بھارت کے موخر اخبار’ ٹائمز آف انڈیا‘ نے سال 2011ء کی جن دس فلموں کو کامیاب ترین قرار دیا ہے ان کے نام اور ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

باڈی گارڈ

سلمان خان اور کرینہ کپور کی فلم ”باڈی گارڈ“ نے پہلے ہی دن 22 کروڑ روپے کا بزنس کرکے ایک نیا ریکارڈ بنایا۔ لیکن فلم کی کہانی اور ڈائریکشن پر کچھ زیادہ نہیں کہا جاسکتا تاہم موسیقی اور ایکشن نے فلم کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس فلم کا ایک ڈائیلاگ ” مجھ پر ایک احسان کرنا کہ مجھ پر کوئی احسان نہ کرنا“ فلم بینوں میں شہرت کا باعث بنااورجونوانوں کی طرف سے ہر جگہ دوہرایا بھی گیا۔

را۔ون

اس فلم کی جدید ٹیکنک اور گرافکس دونوں لاجواب رہے۔ شاہ رخ خان نے اسے سائنس فکشن تھرلر بنانے کے ساتھ ساتھ خود کو سپر ہیرو کے طور پر بھی پیش کیا۔ فلم نے زبردست بزنس کیا جبکہ فلم کے ایک گیت” چھمک چھلو“ نے ناظرین کو سینما ہالز کی جانب متوجہ کیا۔

دی ڈرٹی پکچر

ایکتا کپور کی فلم ”دی ڈرٹی پکچر“ میں ودیا بالن نے جس قسم کا کردار ادا کیا ہے اس نے ہندی فلم بینوں کو چونکا دیا۔ ودیا نے فلم میں بہت ہی حیرت انگیز کردار ادا کیا ہے تاہم ناقدین کے مطابق فلم کے ذومعنی جملے ، ودیا بالن کے انتہائی مختصر کپڑے اور حرکات و سکنات ایسی تھیں کہ جس کا ذکر کرتے ہوئے بھی لوگ شرما جائیں لیکن اس کے باوجود فلم کامیابی سے دوچار ہوئی۔ اس فلم کی کامیابی سے اس تاثر کی بھی نفی ہوئی کہ کسی بھی خان ہیرو کے بغیر بننے والی فلمیں بھی کامیابی کے نئے ریکارڈ ٹوڑ سکتی ہیں۔

ریڈی

رومانٹک کامیڈی فلم ” ریڈی “ سلمان خان کی ہٹ فلموں کی فہرست میں نیا اضافہ ثابت ہوئی۔ڈائریکٹر نثار بزمی نے سلمان اور آسین کی جوڑی کو لیکر تھائی لینڈ میں اس فلم کی شوٹنگ کی لہذا انہیں لوکشنز کا بھی بھرپور فائدہ ہوا۔

زندگی نہ ملے گی دوبارہ

تین دوستوں کی اس کہانی نے فلم کی ڈائریکڑ ذویااختر کو کامیابی کی نئی سیڑھی عنایت کی۔ان کے بھائی فرحان اختر بھی بطور اداکار فلم میں موجود رہے جبکہ باقی فنکاروں مثلاً رہتک روشن ، ابھے دیول اور کترینا کیف نے بھی فلم کی کامیابی میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو ”زندگی نہ ملے گی دوبارہ“ اس سال کی ٹاپ فائیو فلموں شامل ہے۔

سنگھم

ایکشن اور مار دھاڑ والی فلم ”سنگھم“ کی شاندار کامیابی سے ڈائریکٹر روہت شیٹھی اور فلم کی ہیروئن کاجل اگروال کو بالخصوص بہت زیادہ فائدہ ملا۔کاجل کی یہ پہلی ہندی فلم تھی۔ اگرچہ فلم کا موضوع کرپشن کے خلاف جنگ ہے اور اس موضوع پر ہر دوسری تیسری فلم میں کام کیا جاتا ہے مگر پھر بھی” سنگھم“کو لوگوں نے بہت سراہا۔

راک اسٹار

راک اسٹار کی کہانی میں جھول ہونے کے باوجود فلم کے ہیرو رنبیر کپور اپنے کردارکے ذریعے فلم بینوں کے دلوں میں گھر کرنے میں کامیاب رہے۔ اس فلم نے پاکستانی نژاد امریکی اداکارہ نرگس فخری کو فن کی دنیا میں آگے آنے کا شاندار موقع دیا۔ فلم کی ایک اچھائی اس کا میوزک ہے جو اے آر رحمن نے ترتیب دیا جبکہ موہت چوہان کی آواز میں گائے گئے گانوں نے بھی فلم کوخوب شہرت بخشی۔

میرے برادر کی دلہن

یہ فلم نہ زیادہ اچھی تھی ، نہ زیادہ خراب ۔ لیکن یش راج کے بینر، عمران خان، کترینا کیف اور پاکستانی ایکٹر و سنگر علی ظفر کی اداکاری نے اسے کامیاب بنادیا۔ یہ بھی اس سال کی رومانٹک کم کامیڈی فلم تھی جس نے باکس آفس کی کھڑی پر خوب بھیڑ اکھٹی کی۔

دہلی بیلی

دہلی بیلی کے مکالمے ، مناظر اور باقی ’ مصالحہ‘ سب کا سب ایسا تھا جیسا کہ نہیں ہونا چاہئے تھا مگر حیرت انگیز طور پر یہ فلم بھی کامیاب رہی۔ عمران خان، کنال روئے کپور اور ویر داس کی اداکاری نے فلم کو سہارا دیا۔ اس کے ڈائریکٹر ابھی نوائے ڈیو کی فلم ” گیم“ اگر انہیں اندھیرے میں لے آئی تھی تو فلم ”دہلی بیلی“ انہیں فخر کے ساتھ چکاچوند روشنیوں کی جادوئی دنیا میں واپس لے آئی۔

یملا پگلا دیوانہ

سن دوہزار سات میں فلم ”اپنے “ کے تین ستارے سنی دیول، بوبی دیول اور دھرمیندر ایک مرتبہ پھر اس فلم میں یکجا ہوئے جس کے ڈائریکٹر تھے سمیر کارنک۔ فلم کا بجٹ بہت ہی کم تھا لیکن اسے پذیرائی خوب ملی۔ فلم بینوں کے لئے یہ بات دلچسپی سے خالی نہ تھی کہ باپ اور بیٹے ایک ساتھ کام کرتے ہوئے کس حد تک کامیاب رہتے ہیں۔