پاکستانی تاجروں کا دورہ بھارت

وزیرتجارت مخدوم امین فہیم اپنے وفد کے ہمراہ بھارت روانگی سے قبل

پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت اور اقتصادی رابطوں کے فروغ کے لیے پیر کو وفاقی وزیر برائے تجارت امین فہیم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بھارت پہنچا ہے۔

وفاقی وزیر تجارت امین فہیم کی سربراہی میں 80 رکنی وفد بھارت میں قیام کے دوران بھارتی حکام اور کاروباری برادری کے نمائندوں سے بات چیت دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو وسعت دینے اور اس کی راہ میں حائل رکاٹوں کو دور کرنے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کرے گا۔

بھارت روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امین فہیم نے اپنے دورے کے مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس (ارادے) سے جا رہے ہیں کہ تجارت کو بڑھائیں تاکہ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو اور ہمارے پڑوسی ملک کے ساتھ اس کی منڈی میں جانا ہمارے لیے بھی سود مند ہے اور ان (بھارت) کے لیے بھی ہو گا۔‘‘

پاکستانی وفد میں شامل تاجروں کا کہنا ہے کہ اقتصادی رابطوں کو مضبوط بنانے سے پاک بھارت تعلقات میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔

وزارت تجارت کے عہدیداروں کا کہنا ہے اس وقت دو طرفہ تجارت کا حجم ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سالانہ ہے اور مذاکرات میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ویزے کے اجرا میں نرمی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں سال مارچ میں امن مذاکرات کی بحالی کے بعد تجارت کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سیکرٹری تجارت سطح کے مذاکرات اپریل میں اسلام آباد میں ہوئے تھے جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دوطرفہ تجارت کے حجم اور اقتصادی روابط میں اضافہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کا سبب بنے گا۔

جولائی میں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور اُن کے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کے درمیان دہلی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی لائن آف کنٹرول پر مزید تجارتی پوائنٹس کے قیام اور منقسم کشمیر کے درمیان بس رابطوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔