امریکی میڈیا جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے، صدر ٹرمپ

فائل

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی انجمن نے امریکی صدر کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک آزاد اور خود مختار پریس جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے صاحبزادے کی روس کی ایک وکیل کے ساتھ ملاقات کی خبریں دینے والے رپورٹرز پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ امریکی میڈیا جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہیلری کلنٹن کو صدارتی انتخابی مہم کے دوران ہونے والی بحث کے سوال غیر قانونی طور پر پہنچائے جاسکتے ہیں اور وہ 33 ہزار ای میلز ڈیلیٹ کرسکتی ہیں لیکن "جعلی نیوز میڈیا" برستا میرے بیٹے ڈان پر ہے۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ امریکی میڈیا، جسے انہوں نے ٹوئٹ میں 'فیک نیوز' قرار دیا، اپنے تمام نامعلوم ذرائع اور متعصب اور فراڈ رپورٹنگ کے ذریعے "ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔"

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی انجمن نے امریکی صدر کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک آزاد اور خود مختار پریس جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ گزشتہ سال انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ کے بیٹے ڈونالڈ جونیئر نے ایک روسی وکیل سے ملاقات کی تھی کیوں کہ انہیں پتا چلا تھا کہ اس وکیل کے پاس انتخابات میں صدر ٹرمپ کی ڈیموکریٹ حریف ہیلری کلنٹن کے بارے میں بعض ایسی معلومات ہیں جن سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر اس ملاقات کی تصدیق کرچکے ہیں جسے کئی حلقوں نے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ذمہ داران اور روسی حکام کے درمیان رابطوں کا ایک اور ثبوت قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس کی دو کمیٹیاں اور محکمۂ انصاف کی جانب سے نامزد ایک خصوصی وکیل امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت اور صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے روسی حکام کی مبینہ مدد اور رابطوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاوس نے جون 2016ء میں نیویارک میں ہونے والی ٹرمپ جونیئر کی اس ملاقات کا دفاع کیا ہے جب کہ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ انہیں اس ملاقات کا علم نہیں تھا۔

دریں اثنا صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نئے سروے میں اپنی مقبولیت میں کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتنی بھی بری نہیں۔

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' اور نشریاتی ادارے 'اے بی سی نیوز' کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ سروے کے مطابق امریکہ میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت صرف 36 فی صد رہ گئی ہے جو تاریخ میں کسی بھی امریکی صدر کی ابتدائی چھ ماہ کے دوران کم ترین ریٹنگ ہے۔

سروے کے مطابق اپریل 2017ء میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت 42 فی صد تھی جو جولائی میں کیے جانے والےسروے میں 36 فی صد تک آگئی ہے۔

اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ "اس وقت لگ بھگ 40 فی صد [مقبولیت] بھی بری نہیں۔"

اپنے ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال صدارتی انتخاب سے قبل کیے جانے والے سروے درست ثابت نہ ہونے پر واشنگٹن پوسٹ اور 'اے بی سی' کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔