ٹرمپ امریکہ کی جوہری صلاحیتوں کو ’’زیادہ مضبوط‘‘ کرنے کے خواہاں

فائل

منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ امریکہ کی جوہری صلاحیتیں ’’زیادہ مضبوط کی جائیں‘‘ اور یہ ’’بڑھنی چاہئیں‘‘۔

جمعرات کو کی گئی ایک ٹوئیٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ایسا اقدام کرنا چاہیئے ’’جب تک کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق دنیا کا دماغ درست نہیں ہو جاتا‘‘۔

ٹرمپ کے اس بیان سے ایک روز قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کو اسی نوعیت کا بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اُن کا ملک جوہری ذخیرے میں ’’خاصہ اضافہ کرے‘‘۔

وہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں روس کی جانب سے 2016ء کے دوران شروع کی گئی مختلف فوجی مہمات کی تفصیل پیش کی گئی۔ پیوٹن نے کہا کہ ’’فوجی خطرات کے خاتمے کے لیے‘‘ بہتری لانے کی ضرورت ہوگی۔
اُنھوں نے کہا کہ ’’ہمیں حکمت ِعملی کی حامل جوہری افواج کی فوجی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے، خصوصی طور پر میزائل کی پیچیدگیاں ایسی ہیں کہ یہ یقینی طور پر موجودہ اور مستقبل کے ’میزائل شکن نظاموں‘ کی کاٹ کر سکتی ہیں۔‘‘

امریکہ اور روس دونوں اس وقت مساوی نوعیت کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیروں کے مالک ہیں، جن کی تعداد بالترتیب 7100 اور 7300 ہے۔ یہ بات امریکہ میں غیر سیاسی بنیادوں پر قائم اسلحے پر کنٹرول کی تنظیم نے بتائی ہے۔

ٹرمپ نے جوہری ہتھیاروں میں وسعت لانے کی یہ بات ایک روز قبل فلوریڈا میں مارالاگو کے صحت افزا مقام پر متعدد اعلیٰ فوجی عہدے داروں سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔

اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے بیانات دیے تھے جن میں یہ بات کہی گئی تھی کہ زیادہ جوہری ہتھیاروں کی مدد سے دنیا محفوظ ہوسکتی ہے۔

’سی این این‘ ٹاؤن ہال کے دوران، اُنھوں نے کہا کہ ’’کسی حد تک، کیا آپ یہ نہیں چاہیں گے کہ جب شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، تو کیا جاپان کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں‘‘۔

تاہم، بعدازاں، ’نیو یاک ٹائمز‘ کے ساتھ انٹرویو میں، اُنھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’’جوہری اسلحے سے پُر دنیا انتہائی خوفناک ہوگی‘‘۔

بقول اُن کے، ’’میری نظر میں، سب سے بڑا مسئلہ جوہری، اور نیوکلیئر افزودگی کا ہے‘‘۔

بالآخر اگر ٹرمپ امریکی جوہری ذخیرے کو وسیع کرنے کی جانب گامزن ہوتے ہیں، تو یہ بات حالیہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کے مترادف ہوگی، جو گذشتہ متعدد عشروں کے دوران جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی لانے پر مرکوز رہی ہے۔