ترکی میں 1656 سوشل میڈیا صارف گرفتار کیے گئے: رپورٹ

ٹوئٹر کے استعمال پر پابندی کے خلاف مظاہرہ۔ فائل فوٹو

گرفتار کیے گئے لوگوں علاوہ 1203 افراد کو مشروط طور پر چھوڑا گیا۔

ترکی میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 1656 لوگوں کو سوشل میڈیا پر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت یا حکام کو ہتک کا نشانہ بنانے کے لیے الزام میں باضابطہ طور پر گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ دیگر کم از کم دس ہزار افراد ایسے ہی الزامات کے تحت زیر تفتیش ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق پولیس کی طرف سے نشاندہی کیے جانے والے 3710 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے۔

گرفتار کیے گئے لوگوں کے علاوہ 1203 افراد کو مشروط طور چھوڑا گیا جب کہ 767 کو رہا کیا جا چکا ہے اور 84 افراد اب بھی تحویل میں ہیں۔

ان افراد پر لوگوں میں نفرت پھیلانے، دہشت گرد تنظیموں کی تعریف کرنے، کھلے عام دہشت گرد گروپوں سے وفاداری، ریاستی عہدیداروں کی تضحیک اور ریاست کے اتحاد کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

رواں سال جولائی میں صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے خلاف ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد ترکی نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے ہزاروں شہریوں کو حراست میں لینے کے علاوہ ہزاروں سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے معطل یا برخاست بھی کیا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں، مغربی ممالک اور قانونی ماہرین تواتر سے ترک حکومت کی ان کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے بقول اس کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو بھی مبینہ طو پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انقرہ ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے اور اپنی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے اس کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کے تناظر میں یہ حفظ ماتقدم کے طور کیے جانے والے اقدام کا حصہ ہے۔