استنبول: کشتی ڈوبنے کا واقع، 24 افغان تارکین وطن ہلاک

ابھی یہ واضح نہیں آیا کشتی ڈوبنے کا سبب کیا تھا۔ لیکن، حکام کا خیال ہے کہ یہ کشتی بلغاریہ یا رومانیا جارہی تھی، اور یہ کہ تارکین وطن نے اسمگلروں کو 8،700 ڈالر فی شخص ادائگی کی تھی۔ وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ جانے کے خواہاں تھے

پیر کے روز یورپ جانے والی ایک کشتی ترکی کے ساحل سمندر کے ساتھ الٹنے کے ایک واقعے میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم 24 پناہ گزیں ہلاک ہوئے۔

ترکی کے ساحلی محافظوں نےاستنبول کے پار، ’بوسفورس اسٹریٹ‘ کے قریب پانیوں میں سے سات افراد کو بچا لیا۔ تاہم، 12 کے قریب دیگر افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ساحلی محافظوں اور ہیلی کاپٹر کی مدد سے بچاؤ کا کام جاری ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں آیا کشتی ڈوبنے کا سبب کیا تھا۔ لیکن، حکام کا خیال ہے کہ یہ کشتی بلغاریہ یا رومانیا جارہی تھی، اور یہ کہ تارکین وطن نے اسمگلروں کو 8،700 ڈالر فی شخص ادائگی کی تھی۔ وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ جانے کے خواہاں تھے۔

ایک ترک ماہی گیر، امرکان کولو نے بتایا ہے کہ یخ پانی اُن کی ہلاکت کا باعث بنا، حالانکہ اُنھوں نے ’لائف ویسٹ‘ پہن رکھی تھیں۔

بقول اُن کے، ’ہم 8:30 منٹ پر اپنی کشتی میں لنگر انداز ہوئے۔ ہم نے ابھی اپنے نیٹ پانی میں پھینکے بھی نہیں تھے کہ ساحلی محافظوں کی ’واکی ٹاکی‘ پر دوسرے ماہی گیروں کی طرف سے، جو ہمارے جاننے والے تھے، انتباہ دیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے سمندر میں تیرتی ایک لاش دیکھی ہے۔ ہم مزید آگے جانے لگے۔ پھر ہم نے کئی لاشیں دیکھیں۔ اِدھر، اُدھر کافی لاشیں تھیں۔ مرنے والوں نے لائف ویسٹس پہن رکھی تھیں۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ ڈوبے نہیں، لیکن سردی کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔ جب ہم نے اُنھیں نکالا، تو اُن میں سانس باقی نہیں تھی‘۔

ہر سال افریقہ، مشرق وسطیٰ اور دیگر مقامات سے لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن اپنے ملکوں سے بھاگ نکلتے ہیں۔ عام طور پر وہ محفوظ قسم کی کشتیوں میں سوار نہیں ہوتے۔


نقل مکانی کرنے والوں سے متعلق بین الاقوامی تنظیم نے بتایا ہے کہ گذشتہ 10 ماہ کے دوران، تقریباً 150000 تارکین وطن بحفاظت یورپ پہنچ چکے ہیں۔ تاہم، کشتیاں ڈوبنے کے کئی ایک واقعات میں لگ بھگ 3200 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اکثر پیش آنے والے اِن واقعات پر، کم از کم دو یورپی حکومتوں نے اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ بحیرہٴروم میں پیش آنے والے ایسے واقعات کے سلسلے میں امداد اور بچاؤ کی کسی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتی، جب کہ اٹلی نے کہا ہے کہ وہ اپنی طرف سے کیا جانےوالا تلاش کا کام بند کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اُن کے ساحل سمندر کے ساتھ لاکھوں تارکین وطن کی زندگیاں بچانے میں مدد ملی ہے۔