یورپی یونین کی رکنیت : ترکی اور تنظیم کے مابین مذاکرات کا آغاز

کئی برسوں کے تعطل کے بعد ترکی اور یورپی یونین نے سرکاری طور پرتنظیم میں شمولیت سے متعلق مذاکرات کا پھر سے آغاز کردیا ہے۔

توسیع سے متعلق یورپی یونین کے کمشنر اسٹیفن فولے نے جمعرات کو بتایا کہ یہ نیا ’مثبت ایجنڈا‘ سامنے آنے سے اُن کے تعلقات میں ’ایک نئےموڑ اور ایک نئے جوش ولولے‘ کا اضافہ ہوا ہے۔

اُنھوں نے یہ بات ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں کہی، جہاں اُنھوں نےبات چیت کےباقاعدہ آغاز کا اعلان کیا۔

یورپی یونین کے امور سے متعلق ترکی کےوزیر اقامن بغیث کے ساتھ ایک مشترکہ اخبار ی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، فولے نے کہا کہ بات چیت کا مقصد تنظیم میں شمولیت کی کوششوں کو جاری رکھنا اور ترکی کی سوچ کو یورپی یونین سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تعطل کے عرصےمیں فریقین مایوسی کا شکار رہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ صدر عبد اللہ گل اگلے ہفتے شکاگو میں نیٹو کے سربراہ اجلاس کے دوران فرانس کے نئے صدر فرانسواں اولان سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

ترکی اور یورپی یونین نےتنظیم میں شامل ہونے سے متعلق بات چیت 2005ء میں شروع کی، لیکن قبرص کے منقسم جزیرے پر تنازع اور فرانس اور جرمنی کی طرف سے مسلمان ترکی کی رکنیت کی مخالفت کے باعث اس معاملے میں کوئی خاص پیش رفت حاصل نہ ہو سکی۔

ترکی اب تک 35میں سے صرف 13بنیادی اصولوں یا شقوں پر پورا اترا ہے ،جنھیں یورپی یونین کی رکنیت کے خواہشمند تمام امیدوار ممالک کے لیے پورا کرنا لازم ہے۔