غزہ جنگ: جنگی جرائم کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

فائل

قرارداد کے مخالفت میں ووٹ دینا والا واحد ملک امریکہ تھا جب کہ پانچ ملکوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اسرائیل اور فلسطین کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2014ء کی غزہ جنگ کے دوران پیش آنے والے جرائم کی تحقیقات اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کریں۔

انسانی حقوق کونسل نے جمعے کو اپنی قرارداد میں دونوں حکومتوں سے غزہ میں ہونے والے جنگی جرائم کی ابتدائی تحقیقات میں بین الاقوامی عدالت برائے جرائم (آئی سی سی) سے تعاون کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

سینتالیس رکنی کونسل نے قرارداد ایک کے مقابلے میں 41 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کی جو فلسطینی مندوب نے مسلم ممالک کی حمایت سے پیش کی تھی۔

قرارداد کے مخالفت میں ووٹ دینا والا واحد ملک امریکہ تھا جب کہ پانچ ملکوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت کونسل کے رکن تمام یورپی ملکوں نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

قرارداد کی منظوری کے بعد مخالفت میں ووٹ دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کونسل میں امریکہ کے سفیر کیتھ ہارپر نے کہا کہ قرارداد میں صرف مبینہ اسرائیلی مظالم کا احاطہ کیا گیا ہے اور فلسطینیوں کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کم ہے جس پر امریکہ کو تشویش ہے۔

عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل نے یہ قرارداد غزہ پر اسرائیلی حملے کا ایک سال مکمل ہونے سے محض چند روز قبل منظور کی ہے۔

اسرائیلی حکومت نے 2014ء میں حماس کے جنگجووں کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کا جواز بنا کر غزہ پر حملہ کیا تھا جسے اسرائیلی فوج نے 'آپریشن پروٹیکٹو ایج' کا نام دیا تھا۔

پچاس روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 2100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے تھے جن کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل تھی۔ اس دوران فلسطینی جنگجووں کے جوابی حملوں میں اسرائیل کے 67 فوجی اہلکار اور چھ شہری بھی مارے گئے تھے۔

جنگ کے دوران اسرائیل نے دنیا کے گنجان ترین علاقوں میں شمار ہونے والے غزہ پر توپ خانے اور جنگی طیاروں سے شدید بمباری کی تھی جس سے گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت سیکڑوں عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔

اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں نے گزشتہ ماہ اپنی ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فریقین نے جنگ کے دوران بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی تھیں جن میں سے کئی جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

فلسطین اور اسرائیل کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد کے پابند نہیں لیکن عالمی ادارے کی جانب سے اس نوعیت کی قرارداد کے نتیجے میں ان پر عالمی دباؤ میں ضرور اضافہ ہوگا۔