یمن: رمضان میں فریقین سے جنگ بندی کی اپیل

فائل

بان کی مون نے کہا ہے کہ رواں ہفتے سے شروع ہونے والا ماہِ رمضان "امن، غور وخوض اور بھائی چارے" کا درس دیتا ہے جس کے دوران فریقین کو تنازع کے حل کے طریقوں پر غور کرنا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کےسیکریٹری جنرل بان کی مون نے یمن میں حکومت کی حامی فورسز اور حوثی باغیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں اپنی لڑائی روک دیں۔

پیر کو سوئٹزرلینڈ کے شہرجنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ مسلمانوں کے مقدس مہینے کے دوران باغیوں اور سرکاری فوج کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر کم از کم دو ہفتوں کےلیے اپنی جھڑپیں روک دینی چاہئیں۔

بان کی مون نے کہا کہ رواں ہفتے سے شروع ہونے والا ماہِ رمضان "امن، غور وخوض اور بھائی چارے" کا درس دیتا ہے۔

بان کی مون یمن تنازع کے فریقین کے درمیان ہونے والے بالواسطہ بات چیت میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچے ہیں جسے پیر کو شروع ہونا ہے۔

یمن کے لیے عالمی ادارے کے خصوصی ایلچی اسمعیل شیخ احمد کی کوششوں کے نتیجے میں ہونے والی اس بات چیت میں یمن کے خود ساختہ جلاوطن صدر عبدربہ منصور ہادی کی حکومت اور دارالحکومت صنعا اور ملک کے دیگر علاقوں پر قابض حوثی باغیوں کے نمائندے شریک ہیں۔

تاہم مذاکرات کے دوران فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں کا امکان نہیں بلکہ ایلچی اسمعیل شیخ احمد فریقین کے نمائندوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔

یمن کے وزیرِ خارجہ ریاض یسین عبداللہ نے پیر کو اپنےایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت حوثی باغیوں کے ساتھ صرف اسی وقت براہِ راست بات کرے گی جب وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظورکردہ قرارداد کی پاسداری کا عہد کریں گے اور اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا اور اپنی تحویل میں موجود ہزاروں قیدیوں کو رہا کریں گے۔

بان کی مون نے دونوں فریقوں سے بارہا اپیل کی ہے کہ وہ کسی پیشگی شرط کے بغیر براہِ راست مذاکرات کریں۔

پیر کو جنیوا میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے عالمی ادارے کے سربراہ نے امید ظاہر کی کہ حالیہ ملاقاتوں کے نتیجے میں یمن کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ یمن کی کل دو کروڑ 60 لاکھ آبادی میں دو کروڑ سے زائد افراد ملک میں جاری لڑائی سےبراہِ راست متاثر ہوئے ہیں اور انہیں امداد کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق مسلح تصادم کے دوران اب تک ڈھائی ہزار افراد ہلاک اور 11 ہزار زخمی ہوچکے ہیں جب کہ 10 لاکھ یمنی باشندوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔