شمالی کوریا کے ’’اشتعال انگیز‘‘ ہتھکنڈے، اقوام متحدہ کی مذمت

ایک بیان میں سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ اُسے شمالی کوریا کے بارے میں تشویش ہے، ’’چونکہ اُس کا طرزِ عمل سلامتی کونسل کی قراردادوں کا کھلم کھلا، اشتعال انگیزی پر مبنی اور انتہائی عدم استحکام کا باعث ہے‘‘۔ ادھر، یورپی یونین نے نئی تعزیرات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو شمالی کوریا کی جانب سے اِسی ہفتے کیے گئے بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کی ہے۔


ایک بیان میں کونسل نے کہا ہے کہ اُسے شمالی کوریا کے بارے میں تشویش ہے، ’’چونکہ یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کا کھلم کھلا، اشتعال انگیزی پر مبنی اور انتہائی عدم استحکام کا باعث طرزِ عمل ہے‘‘۔


اس سے قبل، جمعرات کو یورپی یونین نے نئے جوہری اور بیلسٹک میزائل تجربوں کی پاداش میں شمالی کوریا کے خلاف نئی تعزیرات عائد کر دی ہیں، جن میں بدھ کے روز بحیرہٴ جاپان میں راکٹ داغنے کا ناکام تجربہ بھی شامل ہے۔


نئی تعزیرات میں ’ایئرواسپیس‘، دھات کا کام اور ہتھیار تشکیل دینے کی روایتی صنعتوں میں سرمایہ کاری شامل ہے، ساتھ ہی اُن کمپیوٹر خدمات کی فراہمی پر قدغن شامل ہوگی، جن میں معدنیات اور کیمیائی صنعتوں میں کارکنان کو جھونکنے کا عمل شامل ہے۔


یورپی یونین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نئی تعزیرات اس لیے عائد کی گئی ہیں چونکہ شمالی کوریا نے اقدام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے، جو ’’بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرات کے مترادف ہے‘‘۔


یورپی یونین نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ اپنی ’’اشتعال انگیزی بند کرے اور تمام جوہری ہتھیار اور موجودہ نیوکلیئر منصوبے ختم کر دے‘‘، اور بین الاقوامی برادری سے مذاکرات کا آغاز کرے۔