برینن کو ڈرون پالیسی پر سوالات کا سامنا

سی آئی اے کے نامزد سربراہ جان برینن

سی آئی اے کے نامزد سربراہ جان برینن بیرون ملک امریکی فورسز کی طرف سے بغیر پائلٹ کے طیاروں کے استعمال کو قانونی، اخلاقی اور موثر ترین قرار دے چکے ہیں۔
امریکی سینیٹ کی کمیٹی صدر براک اوباما کی طرف سے انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے نامزد کردہ سربراہ سے جمعرات کو بیرون ملک مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث امریکی شہریوں کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی پالیسی پر سوالات کرے گی۔

انسداد دہشت گردی کے لیے وائٹ ہاؤس کے مشیر جان برینن سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے جو کہ دہشت گردی کے خلاف انتظامیہ کی پالیسیوں کے ایک مضبوط حامی ہیں۔

بدھ کو حکام نے بتایا تھا کہ صدر اوباما نے محمکہ انصاف کو حکم دیا ہے کہ وہ کانگرس کو ڈرون حملوں کی وضاحت کے بارے میں خفیہ قانونی دستاویزات فراہم کریں۔ مشتبہ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے منصوبے سے متعلق محکمہ انصاف کا مراسلہ افشا ہونے کے بعد 11 سینیٹروں نے یہ دستاویزات دیکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

قبل ازیں انتظامیہ کسی بھی دہشت گردانہ حملے کے احتمال پر ڈرون حملوں کے استعمال کی حمایت اور انھیں جائز قرار دیتی رہی ہے۔ لیکن اس مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی دہشت گردانہ منصوبے کا حصہ بننے والے امریکی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

برینن بیرون ملک امریکی فورسز کی طرف سے بغیر پائلٹ کے طیاروں کے استعمال کو قانونی، اخلاقی اور موثر ترین قرار دے چکے ہیں۔ لیکن بعض امریکی قانون ساز، قانونی ماہرین اور آزاد خیال شہری بغیر شفاف مقدمات کے اس پالیسی کو ہدف تنقید بناتے آئے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک موقر تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کو کہا تھا کہ صدر اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکومت ہلاکت خیز قوت کا استعمال بین الاقوامی قوانین کے تحت ہی کیا جائے۔ تنظیم نے اوباما انتظامیہ اور ساتھ ہی ساتھ اس سے قبل کی بش انتظامیہ پر انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔