ترکی کو ایف35 جیٹ طیاروں کی فراہمی، ٹیکساس میں تقریب

فائل

کانگریس کی مخالفت کے باوجود، اس ہفتے ترکی کو ’ایف 35 جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر‘ کی پہلی کھیپ موصول ہوجائے گی۔ یہ بات پینٹاگان اور ہوابازی کی صنعت کے اہل کاروں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتائی ہے۔

کمپنی کے ترجمان کے مطابق، ایف 35 بنانے والا ادارہ، ’لوک ہیڈ مارٹن‘ جمعرات کو ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں ایک تقریب کا انعقاد کر رہا ہے، تاکہ ترکی کو نئے جیٹ فراہم کیے جائیں۔

’نیشنل ڈفنس اتھارائزیشن ایکٹ‘ کے تحت ایوان نمائندگان اور سینیٹ نے دو بل منظور کیے تھے، جن میں ’ایف 35 پروگرام‘ میں ترکی کی شرکت پر پابندیاں عائد ہیں۔

امریکی قانون سازوں کو ترکی کی جانب سے ایک امریکی پاسٹر کو قید کرنے اور روسی ایس 400 ایئر ڈفنس سسٹم خریدنے کے منصوبے پر تشویش لاحق رہی ہے، جس کے لیے اُس کا کہنا ہے کہ اس سے نیٹو اتحاد کی ’’عام سلامتی میں ابتری آئے گی‘‘ اور ترکی کے نیٹو کے اتحادیوں کی جانب سے زیر استعمال نظام عمل کے قابل نہیں رہے گا۔

’این ڈی اے اے‘ اور اس میں درج ’لینگوئیج‘ تب تک قانون نہیں بنے گی جب تک ایوان نمائندگان اور سینیٹ اسے منظور نہیں کرتے، جو ایک مشترکہ بِل ہوگا۔

کمپنی نے کہا ہے کہ ’’ہمیشہ کی طرح، ’لاک ہیڈ مارٹن‘ حکومت امریکہ کی طرف سے کسی بھی سرکاری ہدایت نامے کو ماننے کا پابند ہے‘‘۔

جمعرات کو جیٹ طیارے دیے جانے کے بعد، ترکی کے دو جیٹ طیارے کسی اور دِن ایریزونا میں قائم لوک ایئر فورس بیس کی جانب پروار کریں گے، جہاں ترک پائلٹ انہیں اڑانے کی تربیت لیں گے۔ یہ بات پینٹاگان کے ترجمان، ایئر فورس کے لیفٹیننٹ کرنل مائیک اینڈریوز نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتائی ہے۔

اینڈریوز نے مزید کہا کہ ’’ترکی کے ایف 35 پائلٹ اور مکینک ’لوک ایئر فورس بیس‘ پہنچ چکے ہیں، اور بہت جلد پرواز کی تربیت حاصل کرنا شروع کریں گے‘‘۔