جنوبی وزیرستان: طالبان کمانڈر مولوی نذیر خودکش حملے میں زخمی

مولوی نذیر (فائل فوٹو)

افغان سرحد سے ملحقہ اس قبائلی علاقے میں ہونے والے بم حملے میں کم ازکم چھ افراد ہلاک جب کہ مولوی نذیر کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک خود کش بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور مقامی طالبان کمانڈر مولوی نذیر سمیت نو زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی حکام اور عینی شاہدین نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے انتظامی مرکز وانا میں جمعرات کے روز موٹر سائیکل پر سوار خود کش بمبار نے اس وقت حکومت کے حامی عسکریت پسند کمانڈر کی گاڑی کو نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں قائم اپنے دفتر سے باہر نکل رہے تھے۔

دھماکے سے مولوی نذیر کی گاڑی کے علاوہ قریبی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

اطلاعات کے مطابق مولوی نذیر کے ساتھیوں نے اپنے زخمی کمانڈر کو علاقے میں قائم اپنے مرکز میں منتقل کر دیا۔

زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں پر متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

قبائلی امور کے تجزیہ کار اور افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے ملا نذیر پر ہونے والے خود کش حملے کے بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ’’ساؤتھ میں وانا میں جو علاقہ ہے احمد زئی کا علاقہ وہاں پر بھی مختلف گروپس ہیں اس سے پہلے بھی ان کی آپس میں لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں اور اس وقت جب انھوں نے چیچن اور ازبک کے خلاف کارروائی کی تھی تین سال پہلے تو اس وقت بھی ان پر حملے ہوئے تھے۔ بہر حال اب یہ ہو سکتا ہے کہ ان کے گروہ میں سے کسی نے وقت مناسب جان کر حملے کی کوشش کی ہو۔‘‘

ملا نذیر پر خود کش حملے کے بعد وانا بازار میں تمام تر تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہو گئیں جب کہ انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات کر کے مشتبہ افراد کی تلاش شروع کر دی۔

افغان طالبان تحریک میں شامل ملا نذیر نے دو ہزار سات کے اوائل میں احمد زئی وزیر قبائل کا امن لشکر تشکیل دے کر وانا سب ڈویژن میں روپوش غیر ملکی عسکریت پسندوں اور ان کے مقامی ساتھیوں کو نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔

وانا سے نکلنے کے بعد عسکریت پسندوں نے ملا نذیر اور حکومت کے حامی احمد زئی وزیر قبائل کے خلاف مزاحمت شروع کر رکھی ہے۔


ملا نذیر کا شمار حکومت کے حامی طالبان کمانڈروں میں ہوتا ہے اور جنہیں بعض دیگر شدت پسند تنظیموں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

تاہم سرکاری عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ حکومت کا طالبان کا کسی گروہ سے کوئی رابطہ نہیں۔

دریں اثناء اسی قبائلی علاقے میں جمعرات کو ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم از کم دو مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق شین ورسک کے علاقے میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔