لبنان میں ایران کے اتحادی حزب اللہ کے پاس کون کون سے ہتھیار ہیں؟

ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے 1982 میں لبنان میں حزب اللہ کی بنیاد رکھی تھی۔

  • 1982 میں ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے حزب اللہ کی بنیاد رکھی تھی۔
  • حزب اللہ نے ایران کے شیعہ نظریات کو اپنایا اور لبنان کے شیعہ مسلمانوں کو اپنی تنظیم میں بھرتی کیا۔
  • حزب اللہ کے پاس مقامی طور پر تیار کیے گئے راکٹوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

حزب اللہ کا شمار دنیا کے ان بڑے غیر ریاستی گروپس میں ہوتا ہے جن کے پاس اسلحے اور گولہ بارود کا بھاری ذخیرہ موجود ہے۔

لبنان میں قائم یہ گروپ دراصل خطے میں ایران کے بنائے گئے اس ’مزاحمتی محور‘ کا حصہ ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سرگرم ہیں۔

مبصرین کے مطابق گزشتہ ہفتے ایران کے اسرائیل پر براہِ راست حملے کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی میں حزب اللہ کا کردار اہم ہو گا کیوں کہ ایران کی پراکسیز میں یہ گروپ اسرائیل کے قریب ملک میں پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔

حزب اللہ نے لبنان اسرائیل سرحد پر بمباری کی ہے۔ لیکن اس کی شدت کا موازنہ غزہ میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری لڑائی سے نہیں کیا جا سکتا۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے بعد ایک بار پھر حزب اللہ اور ایران کے درمیان 2006 کے جنگ کی طرح کسی بڑے مسلح تصادم یا باقاعدہ جنگ کے خطرات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

لبنان میں 1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے دوران ہی 1982 میں ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے حزب اللہ کی بنیاد رکھی تھی۔

حزب اللہ کی تشکیل کا مقصد بھی بنیادی طور 1979 کے اسلامی انقلاب کو خطے میں پھیلانا اور 1982 میں لبنان پر اسرائیل کے حملے کے بعد اسرائیلی افواج کا مقابلہ کرنا تھا۔

SEE ALSO: اسرائیل اور ایران کشیدگی؛ اب کیا ہو گا؟

حزب اللہ نے ایران کے شیعہ نظریات کو اپنایا اور لبنان کے شیعہ مسلمانوں کو اپنی تنظیم میں بھرتی کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ حزب اللہ ایک گروپ سے بڑھ کر ایک بڑی مسلح قوت بن گئی جس کا لبنان کی ریاست پر بہت گہرا اثر و رسوخ ہے۔

امریکہ اور بعض مغربی حکومتیں اور دیگر حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔

حزب اللہ کتنی طاقت ور ہے؟

حزب اللہ کے پاس مقامی طور پر تیار کیے گئے راکٹوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جینس ایجنسی (سی آئی اے) کی ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق حزب اللہ کے پاس مختلف اقسام اور مختلف رینج کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ میزائل اور راکٹ ہیں۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے راکٹ موجود ہیں جو اسرائیل کے کسی بھی علاقے تک مار کر سکتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر راکٹ ان گائیڈڈ ہیں۔ لیکن اس کے پاس ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل، ڈرونز، ٹینک شکن، طیارہ شکن اور بحری جہازوں پر حملہ کرنے والے میزائل بھی ہیں۔

حزب اللہ کو ہتھیاروں کی سب سے بڑی سپلائی ایران سے ملتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے ایران عراق اور شام کے ذریعے ہتھیاروں کی رسد حزب اللہ کو پہنچاتا ہے۔ ان دونوں ممالک ہی میں ایران کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔ حزب اللہ کے زیرِ استعمال زیادہ تر ہتھیار ایرانی، روسی یا چینی ساختہ ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ سید حس نصراللہ نے 2021 میں کہا تھا کہ ان کے گروپ کے پاس ایک لاکھ سے زائد جنگ جو ہیں۔ سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق ان کی تعداد 45 ہزار ہے جن میں سے 20 ہزار کل وقتی اور 25 ہزار ریزرو جنگجو ہیں۔

SEE ALSO: اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام اسے کیسے محفوظ رکھتا ہے؟

زمین پر مار کرنے والے میزائل اور راکٹ

حزب اللہ کے پاس موجود راکٹس کے ذخیرے میں زیادہ تر ان گائیڈد ہیں۔ 2006 میں ہونے والی جنگ کے دوران حزب اللہ نے اسرائیل میں چار ہزار راکٹ داغے تھے جن میں سے زیادہ تر کاٹیوشا طرز کے روسی ساختہ راکٹ تھے اور ان کی رینج 30 کلو میٹر تک تھی۔

لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کے پاس ایران کے تیار کردہ رعد، فجر، اور زلزلہ نامی راکٹس بھی موجود ہیں جن میں کاٹیوشا کے مقابلے میں زیادہ بھاری مقدار میں اسلحہ بارود زیادہ فاصلے تک لے جانے کی صلاحیت ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پر جو کاٹیوشا اور برکان میزائل داغے ہیں وہ 300 سے 500 کلو گرام تک اسلحہ بارود لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

حسن نصر اللہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 2006 کے بعد انہوں ںے اپنے میزائل کے ذخیرے کو بڑھایا ہے اور اس میں زیادہ تر اب ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے والے میزائل موجود ہیں۔ 2022 میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ لبنان نے مقامی سطح پر میزائلوں میں گائیڈنس سسٹم نصب کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے۔

حزب اللہ کی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حسن نصراللہ نے 2016 میں دھمکی دی تھی کہ وہ شمالی اسرائیل کے حیفہ شہر میں امونیا کے ذخیرے کو نشانہ بنا سکتے ہیں جس کے اثرات ان کے بقول ’ایٹم بم کی طرح‘ ہو سکتے ہیں۔

SEE ALSO: کئی دہائیوں کے حریف اسرائیل اور ایران میں کب کب کشیدگی میں اضافہ ہوا؟

ٹینک شکن میزائل

حزب اللہ نے 2006 کی جنگ میں اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر گائیڈڈ ٹینک شکن میزائل استعمال کیے تھے۔ حالیہ تنازع میں بھی حزب اللہ نے اسرائیل کی سرحد پر ٹینک شکن میزائل نصب کیے ہیں جن میں روسی ساختہ کورنٹ میزائل بھی شامل ہیں۔

گزشتہ برس سات اکتوبر کے بعد سے حزب اللہ نے کئی ایسی ویڈیو پوسٹ کی ہیں جس میں اس نے اپنے میزائلوں سے اسرائیل کے ٹینکوں اور فوجیوں کی گاڑیوں کا نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

طیارہ شکن میزائل

حزب اللہ نے گزشتہ برس 29 اکتوبر کو جنوبی لبنان پر سے گزرنے والے اسرائیلی ڈرونز گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب حزب اللہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا استعمال کیا تھا۔

اس کے بعد کئی مواقع پر حزب اللہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا استعمال کیا اور 26 فروری کو ہونے والی ایسی ہی ایک کارروائی میں اس نے اسرائیل کا ہرمیس 450 ڈرون مار گرایا تھا۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھی حزب اللہ نے ایک اور اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

SEE ALSO: اردن: امریکی اڈے پر حملے کی مبینہ ذمے دار ’کتائب حزب اللہ‘ کتنی طاقت ور ہے؟

جہاز شکن میزائل

حزب اللہ نے 2006 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران پہلی مرتبہ جہاز شکن میزائل کا استعمال کیا تھا۔ اس حملے میں ساحل سے تقریباً 16 کلومیٹر دور اسرائیل کے ایک جنگی جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں چار اسرائیلی اہل کار مارے گئے تھے اور جہاز کو نقصان پہنچا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس جنگ کے بعد حزب اللہ نے 300 کلو میٹر تک مار کرنے والے روسی ساختہ جہاز شکن یاخنت میزائل حاصل کر لیے ہیں۔

ڈرونز

حالیہ تنازعات میں حزب اللہ نے اسرائیل کی جانب دھماکہ خیز مواد لے جانے والے خود کُش ڈرون لانچ کیے ہیں۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مقامی سطح پر تیار کیے گئے ایوب اور مرصاد نامی ماڈلز کے ڈرونز بھی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز بہت کم لاگت سے تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں اسرائیل کی جانب لانچ کرنے کا مقصد آئرن ڈوم اور فضائی دفاع کے نظام کی صلاحیت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔

اسرائیل نے گزشتہ برس ستمبر میں ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے حملوں کے لیے جنوبی لبنان میں ایک ایئر اسٹرپ تیار کی ہے۔ اس صورتِ حال سے واقف غیر اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان میں بنائی گئی ایئر اسٹرپ سے ممکنہ طور پر ہتھیار اور باردو لے جانے والے بڑے ڈرونز لانچ کیے جا سکتے ہیں جو ایرانی ڈیزائن پر تیار کیے گئے ہیں۔

اس رپورٹ کے لیے معلومات خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے لی گئی ہے۔