توقع ہے یمن امن بات چیت دسمبر کے اوائل میں شروع ہو جائے گی: میٹس

صنعا

حالیہ دِنوں الحدیدہ کی اہم بندرگاہ پر لڑائی چھڑنے کے بعد، امریکی ایلچی مارٹن گرفتھز جنگ زدہ یمن میں موجود ہیں، جہاں وہ امن مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔

گرفتھز یمنی دارالحکومت صنعا میں ایران کے اتحادی حوثی اہلکاروں سے ملنے والے ہیں۔ اُن کا مقصد اُنھیں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ سال کے آخر تک سویڈن میں مذاکرات شروع کیے جائیں۔

ستمبر میں سوئٹزرلینڈ میں امن عمل اس وقت ناکام ہوا جب حوثی باغی وہاں آنے میں ناکام رہے۔

دونوں فریق نے حالیہ دِنوں کے دوران گرفتھز کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا، لیکن تشدد بھڑک اٹھنے کے بعد خاموشی کے نتیجے میں یہ امکان ابھرنے لگا تھا کہ مذاکرات پٹری سے اتر جائیں گے۔

امریکی وزیر دفاع، جم میٹس نے بدھ کو کہا ہے کہ اُنھیں توقع ہے کہ لڑائی میں ملوث فریق اگلے ماہ کے اوائل میں سویڈن میں امن مذاکرات کریں گے۔

پیر کے روز نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن برطانیہ نے کونسل کے دیگر ارکان کو قرارداد کا ایک مسودہ تقسیم کیا، جس میں یمن میں جنگ بندی پر زور دیا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ سولین آبادی پر حملے بند کیے جائیں، اور حدیدہ تک بغیر روک ٹوک رسائی حاصل ہونی چاہیئے۔

بندرگاہ باغیوں کے زیر قبضہ ہے، جب کہ متاثرہ آبادی میں غذا، ایندھن اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی دستیاب نہیں۔

سعودیوں نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسی بندرگاہ کے ذریعے باغیوں کو اسلحہ بھیج رہا ہے، جس الزام کی ایران تردید کرتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ اپنے مغربی اتحادیوں کے مطالبے میں شریک ہے کہ یمن میں جنگ بندی کی جائے۔ امریکہ نے سعودی اتحاد کے طیاروں کو دوبارہ ایندھن بھرنے کی سہولت فراہم کرنا بند کر دی ہے، جو یمن پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حوثیوں نے سنہ 2014میں صنعا پر قبضہ جمایا، جس کے بعد حکومت سعودی عرب جلاوطن ہونے پر مجبور ہوئی۔

تب سے یہ گروپ یمن کےجنوبی شہر، عدن منتقل ہو چکا ہے۔