رسائی کے لنکس

logo-print

صدرات کے پہلے سو روز ، واشنگٹن کی انتظامی صفائی، ٹرمپ


اسٹیٹ آف دی نیشن پراجیکٹ کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس ہفتے انتخابات ہوتے ہیں تو مز کلنٹن کے جیتنے کا امکان 95 فی صد ہے۔

ری پبلیکن پارٹی کے نامزد صدارتی امیداور ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کی صورت میں اپنے پہلے ایک سو دن کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے جس میں درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کے ٹیکس میں 35 فی صد چھوٹ دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

صدارتی انتخابات 8 نومبر کو ہو رہے ہیں جس میں ان کے مد مقابل ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلری کلنٹن ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ کانگریس کے ارکان کے عہدے کی معیاد کی حد کو محدود کر دیں گے ، وفاقی ملازمتوں کی بھرتیوں کو منجمد اور وفاقی ضابطوں کی تعداد گھٹا دیں گے۔

مسٹر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کانگریس کے ارکان کے عہدے کی معیاد میں کمی، اور وفاقی حکومت کے اختیارت گھٹا دیں گے

ان کا کہنا تھا کہ ہم دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی صفائی کریں گےاور وہاں نئی حکومت اور نئے لوگ لے کر آئیں گے۔

ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار ریاست پنسلوینیا کے تاریخی اہمیت کے قصبے گیٹس برگ میں کیا۔

بدھ کے روز مسٹر ٹرمپ نے آخری صدارتی مباحثے میں اس وقت اپنے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کرلی جب انہوں نے یہ کہنے سے انکار کر دیا کہ وہ انتخابات کے نتائج کو قبول کریں گے۔

بعد میں انہوں نے اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ وہ نتائج کو قبول کریں گے لیکن قابل اعتراض نتیجے کی صورت میں اسے قانونی طور پر چیلنج کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے گیٹس برگ میں تقریر ایک ایسے موقع پر کی جب رائے عامہ کے جائزے یہ دکھا رہے ہیں کہ وہ اپنی ڈیموکریٹ حریف ہلری کلنٹن سے پیچھے ہیں۔

ریٹل کلیئر پالیٹکس کے مطابق ہلری کو قومی سطح پر اور ان ریاستوں میں جہاں سخت مقابلہ متوقع ہے، ٹرمپ پر چھ پوانٹس سے زیادہ کی برتری حاصل ہے۔

ہفتے کے روز اسٹیٹ آف دی نیشن پراجیکٹ کے جاری کردہ نتائج سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مز کلنٹن کو الیکٹرول کالج میں مسلسل برتری حاصل ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس ہفتے انتخابات ہوتے ہیں تو مز کلنٹن کے جیتنے کا امکان 95 فی صد ہے۔

XS
SM
MD
LG