رسائی کے لنکس

logo-print

پیرس کانفرنس میں شام پر مزید پابندیاں لگانے کا مطالبہ


فرینڈز آف سیریا کانفرنس سے فرانسی صدر خطاب کررہے ہیں

وزیر خارجہ کلنٹن نے کانفرنس میں موجود ہر ملک اور گروپ سے کہا کہ وہ چین اور روس سے رابطہ کریں اور ان سے کہیں کہ وہ شام کے عوام کی قانونی جدوجہد میں ان کی حمایت کریں۔

ایک سو ممالک سے زیادہ کے ایک گروپ نے شام کے صدر بشارالاسد کا اقتدار ختم کرانے کے لیے اس ملک کے خلاف سخت اور وسیع تر پابندیاں لگانے پر زور دیا ہے۔

پیرس میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں نے اجلاس کے بعد شام کے خلاف سخت پابندیاں لگانے کی ایک تازہ اپیل کی ہے تاکہ وہ وہاں گذشتہ 16 ماہ سے جاری حکومت مخالف تحریک کو تشدد کے ذریعے دبانے کی حکومتی کوششوں کوروکاجاسکے۔

امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف فوری طورپر پابندیاں لگائے ۔ انہوں نے روس اور چین سے بھی یہ مطالبہ کیا کہ وہ شام کے خلاف کارروائی میں ان کی حمایت کریں۔



چین اور روس کے نمائندوں نے پیرس کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔

وزیر خارجہ کلنٹن نے کانفرنس میں موجود ہر ملک اور گروپ سے کہا کہ وہ چین اور روس سے رابطہ کریں اور ان سے کہیں کہ وہ شام کے عوام کی قانونی جدوجہد میں ان کی حمایت کریں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے دو ملک اس عمل کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جسے اب مزید قبول نہیں کیاجاسکتا۔

شام کے امدادی گروپ ’فرینڈز آف سیریا‘ نے باغیوں کی مدد میں بڑے پیمانے پر اضافے کا وعدہ کیاہے اور کہاہے کہ وہ انہیں مواصلاتی آلات بھی فراہم کرے گا۔

شام میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے سربراہ میجرجنرل رابرٹ موڈ نے کہاہے کہ ملک میں تشدد ایک ایسی سطح تک پہنچ چکا ہے جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دونوں فریق فائربندی کی پابندی نہیں کریں گے غیر مسلح امن کار اپنا کام دوبارہ شروع نہیں کرسکتے۔
XS
SM
MD
LG