رسائی کے لنکس

logo-print

بحیرہ جنوبی چین کے تنازعات کے حل کی جانب پیش رفت


بحیرہ جنوبی چین میں واقع ایک متنازع جزیرہ

چھ ممالک کی حکومتیں بحیرہ جنوبی چین کے یا تو پورے سمندر یا کچھ حصوں پر اپنی ملکیت کی دعویدار ہیں۔

کمبوڈیا کا کہناہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ بحیرہ جنوبی چین کے علاقے میں تنازعوں سے بچنے کے لیے راہنما اصول متعین کرنے کے ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

کمبوڈیا کی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار کاؤ جم ہورن نے پیر کے روز کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں نے فنوم پن میں تنظیم کے سالانہ اجلاس کے پہلے روز سمندری قوانین سے متعلق ایک مسودہ کی تیاری میں پیش رفت کی ہے۔

عہدے دار نے کوڈ آف کنڈکٹ کے کلیدی نکات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

چھ ممالک کی حکومتیں بحیرہ جنوبی چین کے یا تو پورے سمندر یا کچھ حصوں پر اپنی ملکیت کی دعویدار ہیں، کیونکہ اس علاقے میں وسیع پیمانے پر تیل کے ذخائر کے امکانات موجود ہیں اور یہاں مچھلیوں کی بہتات ہے۔

بحیرہ جنوبی چین پر دعوی ٰ کرنے والے ممالک میں برونائی ، چین، ملائیشیا، فلپائن، تائیوان اور ویت نام شامل ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان لیو وائی من نے بیجنگ میں کہا ہے کہ وہ ایک ایسے ضابطہ کار پر بات چیت کے لیے تیار ہے جس سے مذکورہ سمندر سے متعلق باہمی اعتماد میں اضافہ ہوسکتا ہو۔لیکن اس کا یہ بھی کہناتھا کہ اس طرح کے کسی بھی مسودے سے چین او رآسیان کے درمیان تمام سمندری تنازعات کا حل ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
بیجنگ کا اصرار ہے کہ یہ معاملات ہمسیایہ ممالک سے دوطرفہ بات چیت ہی کے ذریعے حل کیے جانے چاہیں۔
XS
SM
MD
LG