رسائی کے لنکس

مزید پانچ خواتین غیرت کی بھینٹ چڑھ گئیں


غیرت کے نام پرقتل
غیرت کے نام پرقتل

غیرت کے نام پر قتل کے اکثر واقعات صرف ذاتی دشمنی نکالنے کی ایک چال ہوتی ہے جس میں ملزم کو پتہ ہوتا ہے کہ اسے پھا نسی کی سزا نہیں سنائی جائیگی ۔

ساہیوال کے علاقے چیچہ وطنی میں ماں سمیت چار جوان بیٹیوں کو غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا۔پولیس کے مطابق صبح سویرے ان پانچوں خواتین کوگھر کے ہی فرد نے سوتے ہوئے اپنی سگی ماں اور چاروں بہنوں کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واردات کے وقت گھر کے تمام افراد سوئے ہوئے تھے۔ ملزم قتل کے بعد فرار ہوگیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کردی ہے۔

پاکستان میں خواتین کا غیرت کے نام پر اور بدچلنی کا الزام لگاکر انھیں قتل کردینا ایک عام سی بات بن گئی ہے جو کہ ہمارے معاشرے کاایک سنگین المیہ ہے، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 595 خواتین کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتاردیاگیا۔

پاکستان میں خواتین کے تحفظ کیلئے متعدد غیر سرکاری تنظیمیں کام کررہی ہیں انہی میں سے ایک ادارہ عورت فاوٴنڈیشن ہے جو پاکستان کی خواتین کے حقوق کیلئے اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔

عورت فاونڈیشن کی ڈائریکٹر مہناز رحمان نے وائس آف امریکہ کی اس نمائندہ سے چیچہ وطنی میں ہونیوالے عورتوں کے اس المناک قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے َ کہا کہ اس طرح خواتین کے قتل و غارت گری کو غیرت پر قتل کا نام دے دیا جاتا ہے تاہم یہ قتل خاندانی دشمنی کے بناء پر کئے جاتے ہیں، جس میں خاندان کی عورتوں کو نشانہ بناکر صرف خاندانی دشمنیاں نکالی جاتی ہے اور پھر اس قسم کے قتل کی واردات کو خواتین پر بد چلنی کے الزام اور غیرت کے تقاضوں کیخلاف ظاہر کیاجاتا ہے جو کہ انسانیت کیخلاف ایک المناک عمل ہے۔

اس طرح کے تمام ہونیوالے قتل کے واقعات کو غیرت کے نام پر قتل کا نام نہ دیا جائے ۔ یہ صرف ذاتی دشمنی نکالنے کی ایک چال ہوتی ہے جسمیں ملزم کو پتہ ہوتا ہے کہ اسے پھا نسی کی سزا نہیں سنائی جائیگی ۔ملزم کے ساتھ اس کے خاندان والے بھی شریک ہوتے ہیں اور یہ سب پہلے سے طے ہوتا ہے کہ گواہان اس کے خلاف بیان نہیں دیں گے اور ضمانت پر رہائی ممکن ہوجائے گی۔

عورت فاونڈیشن کا ادارہ اس طرح کے قتل کے خلاف مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے قتل کے خلاف حکومت سخت قانون بنائے اور قاتل پر دفعہ 302 عائد کرے تو اس طرح کے غیرت کے نام پر قتل ہونیوالی خواتین کے قتل کی تعداد میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG