رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت اور چین مشترکہ فوجی مشقوں کی بحالی پر متفق


چین اور بھارت نے باہمی بد اعتمادی کے خاتمے اور تعلقات میں بہتری کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کے تحت مشترکہ فوجی مشقوں کی بحالی پر اتفاق کیا ہے۔

چین اور بھارت نے باہمی بد اعتمادی کے خاتمے اور تعلقات میں بہتری کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کے تحت مشترکہ فوجی مشقوں کی بحالی پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات کی بحالی کا اعلان بھارت کے وزیرِ دفاع اے کے انتھونی نے منگل کو نئی دہلی میں اپنی چینی ہم منصب لیانگ گونگلی کے ساتھ مذاکرات کے بعد کیا۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کی افواج نے 2007ء اور 2008ء میں مسلسل دو برس مشترکہ مشقیں کی تھیں۔ بعد ازاں چین کی جانب سے ایک بھارتی فوجی جنرل کو ویزہ دینے سے انکار پر کھڑے ہونے والے تنازع کے ردِ عمل میں بھارت نے ان مشقوں کے تیسرےمرحلے کا انعقاد منسوخ کردیا تھا۔

منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں بھارتی وزیرِ دفاع نے چینی ہم منصب کے ساتھ اپنی ملاقات کو نتیجہ خیز قرار دیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چینی وزیرِ دفاع نے کہا کہ دونوں ملکوں نے اعلیٰ سطحی فوجی وفود کے تبادلے اور اور بحری افواج کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

واضح رہے کہ چین کے کسی وزیرِ دفاع کا گزشتہ آٹھ برسوں میں بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے جس کے دوران میں دونوں ممالک کے حکام کے مابین ہمالیائی سرحدوں پہ موجود اختلافات پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

چین گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کی ارونا چل پردیش نامی ریاست کی مکمل ملکیت کا دعویٰ کرتا آیا ہے اور چینی نقشوں میں اس بھارتی ریاست کو جنوبی تبت قرار دیا جاتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اس سرحدی تنازع پر 1962ء میں ایک مختصر دورانیے کی جنگ بھی ہوچکی ہے جس کے بعد سے اب تک چینی اور بھارتی حکام کے مابین اس تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کے کم از کم 14 مرحلے ہوئے ہیں۔

لیکن سرحدی تنازعات اور فوجی کشیدگی کے باوجود براعظم ایشیا کی ان دونوں ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کے درمیان قریبی تجارتی روابط قائم ہیں اور دونوں ممالک کے حکام 2015ء تک باہمی تجارت کا حجم 100 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کا ہدف رکھتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG