رسائی کے لنکس

logo-print

باغیوں کے زیر قبضہ قصبے پر شامی طیاروں کی گولہ باری


مارت النعمان پر بمباری کے بعد دھواں اٹھ رہاہے

صوبے ادلیب میں واقع فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے اہم یہ قصبہ حلب اور دمشق کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

شام کے سرگرم کارکنوں نے کہاہے کہ سرکاری فورسز کے طیاروں نے جنگی اہمیت کے اس شہر پر گولے برسائے ہیں جس پر گذشتہ ہفتے باغیوں نے قبضہ کرلیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دمشق کے مضافات میں شام کی فوج اور حزب اختلاف کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

لندن میں قائم شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی تنظیم اور مقامی کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کی جانب سے فراہم کردہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ منگل کو مارت النعمان کے علاقے پر گولہ باری کی گئی۔

صوبے ادلیب کا فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے اہم یہ قصبہ حلب اور دمشق کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

منگل ہی کے روز دمشق کے مضافات میں بھی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی خبریں ملی ہیں۔

بیرونی ممالک کے اس انتباہ کے باوجود کہ لڑائیوں سے شام کی صورت حال خراب تر ہورہی ہے، جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔

پیر کے روز شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے سفارت کار لخدرا براہیمی نے اپنے ایک بیان میں کہاتھا کہ 19 ماہ سے جاری اس بحران کے نتیجے میں حالات مسلسل ابتری کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس ملک میں خون خرابہ رکوانے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے ایران سے اپیل کی کہ وہ عید کے موقع پر دونوں فریقوں کے درمیان فائربندی کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے لخدرابراہیمی سے بغداد میں ملاقات کے بعد شام کے تنازع کے جلد حل کی ایک بار پھر اپیل کی۔
XS
SM
MD
LG