رسائی کے لنکس

نیویارک کو آفت زدہ علاقہ قرار دے دیا گیا

نیویارک کے گنجان آباد علاقے کوئنز میں سینڈی کے بعد
نیویارک کے گنجان آباد علاقے کوئنز میں سینڈی کے بعد

نیویارک کو آفت زدہ علاقہ قراردیے جانے کے بعد وفاقی ہنگامی فنڈز کو متاثرہ افراد کی مدد کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

صدر براک اوباما نے ہری کین سینڈی کے نیویارک سے ٹکرانے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد اسے بڑے پیمانے پر تباہی کا نشانہ بننے والا علاقہ قرار دے دیا ہے۔ سینڈی نے نیویارک کے اہم تجارتی مرکز مین ہیٹن کو روند ڈالا اور وہاں کی شاہراہیں، گلیاں اور عمارتیں سیلابی ریلوں میں ڈوب گئیں اور شہر کے ایک بڑے حصے میں برقی رو معطل ہوگئی۔

نیویارک کو آفت زدہ علاقہ قراردیے جانے کے بعد وفاقی ہنگامی فنڈز کو متاثرہ افراد کی مدد کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

پیر کی شام نیویارک کے جنوبی حصے سے ٹکرانے والے سمندری طوفان سینڈی کی قوت ،جس میں تیزرفتار ہواؤں کے جھکڑ بھی شامل تھے، اب گھٹنا شروع ہوگی ہے اور وہ تباہی پھیلانے کے بعد علاقے سے نکل رہاہے۔

موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی طوفانی جھکڑوں کی رفتار ایک سوکلومیٹر فی گھنٹہ کے لگ بھگ ہے اور وہ کینیڈا کی جانب بڑھ رہاہے ، جہاں وہ بدھ کو داخل ہوسکتا ہے۔

سینڈی۔ نیویارک پر کیا گذری

بجلی غائب اور سڑکوں پر پانی
1/12 بجلی غائب اور سڑکوں پر پانی
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
پانی میں ڈوبی بروکلین کی ایک گلی
2/12 پانی میں ڈوبی بروکلین کی ایک گلی
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
بروکلین سے لوگوں کی محفوظ مقامات کی جانب منتقلی
3/12 بروکلین سے لوگوں کی محفوظ مقامات کی جانب منتقلی
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
نیویارک کے ایک بجلی گھر کی جانب بڑھتا ہوا سیلابی پانی
4/12 نیویارک کے ایک بجلی گھر کی جانب بڑھتا ہوا سیلابی پانی
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
پانی میں ڈوبی نیویارک کی ایک سڑک
5/12 پانی میں ڈوبی نیویارک کی ایک سڑک
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
نیویارک کے اہم تجارتی مرکز مین ہیٹن میں سیلابی ریلے
6/12 نیویارک کے اہم تجارتی مرکز مین ہیٹن میں سیلابی ریلے
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
پانی میں ڈوبی ایک آبادی سے لوگوں کو نکالا جارہاہے
7/12 پانی میں ڈوبی ایک آبادی سے لوگوں کو نکالا جارہاہے
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
ایک شخص اپنے گھر سے پانی نکال رہاہے
8/12 ایک شخص اپنے گھر سے پانی نکال رہاہے
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
طوفان کے بعد مین ہیٹن کا ایک منظر
9/12 طوفان کے بعد مین ہیٹن کا ایک منظر
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
سیٹلائٹ سے ہری کین سینڈی کی ایک تصویر
10/12 سیٹلائٹ سے ہری کین سینڈی کی ایک تصویر
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
بجلی جانے کے بعد ایک اسپتال سے سیریس مریضوں کو دوسرے اسپتال منتقل کیا جارہاہے
11/12 بجلی جانے کے بعد ایک اسپتال سے سیریس مریضوں کو دوسرے اسپتال منتقل کیا جارہاہے
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
طوفان سے نیویارک کے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے
12/12 طوفان سے نیویارک کے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے
ہری کین سینڈی سے دارالحکومت واشنگٹن سمیت امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں کوشدید نقصان پہنچا جن میں اہم تجارتی مرکز نیویارک بھی شامل ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں سیلابی ریلے گھس آئے، بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
Previous slide
Next slide
امریکہ کے انتہائی گنجان آباد علاقے نیویارک سے ٹکرانے والا سمندری طوفان سینڈی کی تیزہواؤں اور شدید بارشوں کےنتیجے میں بحراوقیانوس میں انتہائی بلند خطرناک لہریں پیدا ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق طوفان سے اس مشرقی ساحلی ریاست میں 14 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں درختوں کے گرنے اور ٹریفک کے حادثوں کے باعث ہوئیں۔

نیویارک میں سب سے زیادہ نقصان مین ہیٹن کو پہنچا جہاں چار میٹر تک بلند لہریں داخل ہونے سے آمد رفت میں شدید خلل پڑا اور دس لاکھ آبادی کا ایک حصہ بجلی کی فراہمی سے محروم ہوگیا۔

ادھر نیو جرسی میں جوہری توانائی سے چلنے والے بجلی گھرنے پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد ہائی لیول الرٹ جاری کردیا ہے۔

امریکی ریاست میری لینڈ اور کینیڈا کے علاقے ٹورانٹو سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
XS
SM
MD
LG