رسائی کے لنکس

logo-print

عراق میں امریکی فضائیہ کی پناہ گزینوں کے لیے امداد جاری


امریکی فوج کی طرف سے اب تک خوراک کے 52 ہزار پیکٹ اور دس ہزار 600 گیلن سے زائد پینے کا صاف پانی ان افراد کو مہیا کیا گیا۔

عراق کے شمالی حصے میں پھنسے پناہ گزینوں کے لیے امریکی فوج کی طرف سے امدادی سامان فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ شدت پسندوں کے خلاف بھی تازہ فضائی کارروائی کی گئی ہے۔

سنی شدت پسند تنظیم 'اسلامک اسٹیٹ' کی پیش قدمی اور مظالم سے خوفزدہ عیسائی اور یزیدی اقلیت کے ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نکل آئے تھے اور اب یہ لوگ جبل سنجار کے علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

امریکی فوج کی طرف سے اب تک خوراک کے 52 ہزار پیکٹ اور دس ہزار 600 گیلن سے زائد پینے کا صاف پانی ان افراد کو مہیا کیا گیا۔ یہ امداد فضا سے اس علاقے میں گرائی گئی۔

دریں اثناء امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسلامک اسٹیٹ کے شدت پسندوں پر شمالی عراق میں چار مزید فضائی حملے کیے۔

حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں کے علاوہ ڈرون طیاروں کا استعمال کیا گیا اور ان میں بکتر بند گاڑیوں اور ٹرکوں کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے سنجار کے قریب کی جانے والی کارروائیوں کو کامیاب قرار دیا۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ انھیں عراق میں سلامتی کی صورت حال پر "شدید تشویش" ہے۔ انھوں نے صورت حال میں "تدبر" سے کام لینے کا مطالبہ کیا۔

ان نے عراق کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ایسی حکومت تشکیل دیں جو عراقی معاشرے کے تمام طبقات کو قابل قبول ہو۔

قبل ازیں امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ ان کی فوج کی فضائی کارروائیوں میں اسلامک اسٹیٹ کے جنجگوؤں کی اسلحہ اور سازو سامان کامیابی سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

ان کے بقول شدت پسندوں کی طرف سے لاحق خطرات سے ہفتوں میں نہیں نمٹا جاسکتا اور اس کے لیے کچھ مزید وقت لگے گا۔

XS
SM
MD
LG