رسائی کے لنکس

logo-print

اقتدار ہم نے سنبھال لیا ہے: برکینا فاسو کے فوجی افسران


کرنل زیدا نے جلد اور پرامن انتقال اقتدار کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو جلد "معمول کے مطابق آئینی ڈگر پر واپس لے آیا جائے گا۔"

مغربی افریقی ملک برکینا فاسو میں صدارتی گارڈز کے ایک افسر نے ہفتہ کو اقتدار سنبھالنے کے اعلان کرتے ہوئے عہد کیا کہ ملک میں انتخابات کروائے جائیں گے۔

ہفتہ کو علی الصبح صدارتی گارڈز کے آپریشنل کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل اسحق زیدا نے اعلان کیا کہ وہ اقتدار سنبھال رہے ہیں۔

"میں آج سے ریاست کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھال رہا ہوں۔ میں اس تحریک کے شہیدوں کو سلام کرتا ہوں اور ہمارے لوگوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔"

اس اعلان سے چند گھنٹے قبل فوج کے سربراہ جنرل اونئے ٹروئی نے کہا تھا کہ عوامی مظاہروں کے نتیجے میں صدر بلاثیے کمپورے کی بے دخلی کے بعد وہ "ریاست کے سربراہ کی ذمہ داریاں" سنبھال رہے ہیں۔

کرنل زیدا کی طرف سے اعلان کے بعد صورتحال مبہم نظر آ رہی ہے کہ ملک کی باگ ڈور درحقیقت کس کے ہاتھ میں ہے۔

صدارتی گارڈز کے عہدیدار اور مظاہروں کو منظم کرنے والی سول سوسائٹی کے ایک گروپ کی حمایت کرنے والے کرنل زیدا کا کہنا تھا کہ ملک کا آئین معطل کر دیا گیا ہے اور عبوری حکومت بنانے کا کام شروع ہے۔

انھوں نے جلد اور پرامن انتقال اقتدار کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو جلد "معمول کے مطابق آئینی ڈگر پر واپس لے آیا جائے گا۔"

ایک روز قبل جنرل ٹروئی نے بھی ایسا ہی اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ سیاسی فریقین کے ساتھ مل کر آئین کی بحالی پر مشاورت کر رہی ہے۔

صدر بلاثیے کمپورے نے جمعہ کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ وہ 1987 میں ایک بغاوت کے ذریعے اقتدار میں اور تقریباً 27 سال تک اس پر براجمان رہے۔

اپنے عہدے میں توسیع کے لیے انھوں نے ایک تجویز پیش کی تھی جس کی منظوری کی صورت میں وہ اگلی مدت کے بھی صدر رہ سکتے تھے۔

لیکن ملک میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد اس تجویز کو رد کردیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG