رسائی کے لنکس

logo-print

آئی ایس آئی اور آئی بی کے فنڈز آڈٹ سے مستثنیٰ


رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دنیا کے کئی دیگر ملکوں میں بھی ملک کی سلامتی سے متعلق معاملات کی حساس نوعیت کے پیش نظر انٹیلی جنس اداروں کو دیئے جانے والے فنڈز کا آڈٹ نہیں کیا جاتا۔

پاکستان کی پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ملک کے انٹلیجنس اداروں انٹر سروسز انٹلیجنس ' آئی ایس آئی' اور انٹلیجنس بیورو 'آئی بی' کی طرف سے کیے جانے والے اخراجات کو آڈٹ سے مستثنیٰ قرار دیا ہوا ہے۔

یہ بات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ اور حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ کی صدرات میں وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسیز مینجمنٹ سیل کی طرف سے خفیہ اداروں کو دیئے گئے فنڈز کے آڈٹ کے معاملے کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آئی۔

پاکستان کے آڈیٹر جنرل رانا اسد امین نے گزشتہ روز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ہونے والے اجلاس کے دوران کہا کہ ’آئی ایس آئی‘ اور ’آئی بی‘ کے اکاؤنٹس کو آڈٹ کروانے سے استثنا فنانس ایکٹ 2014 کے تحت دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ان اداروں کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کے لیے حکومت کی منظوری درکار ہو گی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دنیا کے کئی دیگر ملکوں میں بھی ملک کی سلامتی سے متعلق معاملات کی حساس نوعیت کے پیش نظر انٹیلی جنس اداروں کو دیئے جانے والے فنڈز کا آڈٹ نہیں کیا جاتا۔

"چونکہ یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے اور عوام کے پیسے کے استعمال کو چھپانا بھی مناسب نہیں ہے لیکن دیکھنا یہ پڑے گا کہ کونسی چیز زیادہ اہم ہے میرے خیال میں ملک کی سکیورٹی اور ملک کے (حساس) معاملات زیادہ اہم ہیں اس لیے میرے خیال میں یہ کوئی بڑی چیز نہیں ہے اور اگر اس کو استثنا دے دیا جائے تو کوئی برائی نہیں ہے۔"

پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ کے عہدیدار احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ ملک کی سلامتی کے کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اخراجات کو خفیہ رکھنا شاید ضروری ہو، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی مناسب نگرانی کا کوئی طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے۔

"ان (اخراجات) کو راز میں رکھنا ضروری ہے اور ان کی نگرانی کے لیے مختلف سطح پر کوئی طریقہ کار وضح کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ میرے خیال میں آڈیٹر جنرل جو ہوتا ہے وہ حکومت کا اہم حصہ ہوتا ہے اور اگر آڈیٹر جنرل کو اس کے آڈٹ کی اجازت ہو لیکن اس رپورٹ کوعام نا کیا جائے ۔۔صرف اس کے بارے میں جو رائے ہے اسے وزیر اعظم کو بھیج دیا جاےت یہ بھی ایک طریقہ کار ہو سکتا ہے۔"

تاہم احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ جیسے جیسے ملک میں جمہوریت مضبوط ہوتی جائے گی تو پارلیمان کے ذریعے عوام کے پیسے کے استعمال کی موثر نگرانی کے عمل میں بھی پیش رفت ہوتی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG