رسائی کے لنکس

بھارتی فوج کی کشمیری مسلمان مظاہرین پر فائرنگ


بھارتی کشمیر میں جھڑپ، ایک فوجی افسر ہلاک
بھارتی کشمیر میں جھڑپ، ایک فوجی افسر ہلاک

بھارتی فوج نے جمعے کو نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام کے بیرو قصبے میں مسلمان مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوگیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج نے علاقے میں پیدل گشت کے دوران بعض افراد سے بدسلوکی کی اور انہیں مارا پیٹا۔

مکینوں نے فوج کے اس رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے دوران چند نوجوان مشتعل ہوگئے اور انہوں نے فوجیوں پر پتھر پھینکے۔

فوج نے ردِعمل میں گولی چلادی جس سے دو نوجوان زخمی ہوگئے۔

زخمیوں میں سے ایک تنویر احمد پالا نامی نوجوان اسپتال منتقل کرنے سے قبل ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ گولی تنویر کے سر میں لگی تھی۔

تاہم سرینگر پولیس کے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ "شرپسند عناصر" نے فوج پر پتھراؤ کے دوران ایک پٹاخہ بھی پھینکا تھا۔

بیان کے مطابق دھماکے کی آواز سن کر فوجیوں کو لگا کہ اُن پر دستی بم پھینکا گیا ہے جس پر انہوں نے جواباً گولی چلادی۔

جمعے کو وادئ کشمیر میں عام ہڑتال کی وجہ سے کاروبارِ زندگی مفلوج رہا۔

ہڑتال کی اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے قائدین کے ایک اتحاد نے بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں اور بھارتی فوجی دستوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں بالخصوں نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف کی تھی۔

ہڑتال کے موقع پر مسلم اکثریتی وادی میں بازار، بینک اور دوسرے کاروباری ادارے، اسکول اور کالج بند ہیں جبکہ سڑکوں پر محدود پیمانے پر ٹرانسپورٹ سروسز اور نجی گاڑیاں چل رہی ہیں۔

ریل سروسز کو حکام نے حفظِ ما تقدم کے طور پر بند کردیا ہے۔ دارالحکومت سرینگر میں آٹھ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں جبکہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے رہنماؤں اور سرکردہ کارکنوں کو ایک مرتبہ پھر ان کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا ہے یا پھر پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔

ہڑتال کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

سرینگرہی کے گپکار علاقے میں واقع اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین برائے بھارت و پاکستان کے گرمائی صدر دفاتر کے ارد گرد بھارتی فوجی دستوں نے اپنا گھیرا سخت کردیا ہے۔

استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے سیاسی قائدین کے اتحاد نے لوگوں سے فوجی مبصرین کے دفتر تک مارچ کرکے کشمیر میں رائے شماری کا مطالبہ دہرانے اور انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے خلاف احتجاج کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔

اتحاد میں شامل جموں کشمیر لِبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک نے جو گرفتاری سے بچنے کے لیے جمعرات کو روپوش ہوگئے تھے، جب ایک قریبی بستی کی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد فوجی مبصرین کے دفتر کی طرف پیش قدمی شروع کی تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

اتحاد نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیخش کو ایک یادداشت روانہ کی ہے جس میں اُن سے اتحاد کے بقول کشمیری نوجوانوں کی نسل کُشی روکنے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس دوراں سابق صوبائی وزیرِ اعلیٰ اور حزبِ اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور فوری حل کے لئے وہ امریکہ اور چین جیسی طاقتوں سے ثالثی کی درخواست کرے۔ انہوں نے کہا –" آپ کب تک انتظار کرینگے۔ بعض اوقات بیل کو سامنے آکر سینگوں سے پکڑنا پڑتا ہے۔ بات چیت ناگزیر ہے۔ دنیا میں بھارت کے کئی دوست موجود ہیں۔ وہ انہیں ثالثی کرنے کے لئے کہہ سکتا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ وہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ چین بھی کہہ چکا ہے کہ وہ کشمیر پر ثالثی کرنا چاہتا ہے۔ کسی نہ کسی سے رابطہ قائیم کرنا ہی ہے"۔

حکمران اتحاد میں شامل علاقائی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے فاروق عبداللہ کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے –اس کے سینئیر لیڈر سرتاج مدنی نے کہا- "یہ اچھی بات ہے کہ فاروق عبداللہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ اگر آپ مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتے ہیں تو اس سے زیادہ خوش آئیند بات کیا ہوسکتی ہے۔ اگر بھارت چین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ بات چیت کرنا چاہتا ہے تو پھر پاکستان سے بھی بات ہوسکتی ہے۔"

لیکن پی ڈی پی کی حلیف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے نہ صرف فاروق عبد اللہ کی تجویز کو مسترد کردیا بلکہ اُن کی شدید نکتہ چینی بھی کی ۔ اس کے سنئیر لیڈر اور صوبائی نائب وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا۔ "وہ دو رُخا شخص ہے۔ میں اُن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب وزیرِ اعلیٰ تھے تو پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے کہتے تھے۔ وہ دوہرا معیار کیوں رکھتے ہیں؟" – بھارتی حکومت نے حال ہی میں اپنے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ کشمیر پاکستان کے ساتھ دو طرفہ معاملہ ہے اور اس پر کسی تیسرے ملک کی ثالثی یا مداخلت قابلِ قبول نہیں۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG