رسائی کے لنکس

کیا شمالی کوریا کو راکٹ انجن یوکرین نے فراہم کیے تھے؟


شمالی کوریا کے کسی نامعلوم مقام سے میزائل داغنے کی مشق کی جا رہی ہے۔

یوکرین کسی بھی ایسے بھی خیال کو مسترد کرنا چاہتا ہے کہ وہ شمالی کوریا  کو مسلح کرنے میں  مدد کرے گاجب کہ پیانگ یانگ گوام پر میزائل داغنے کی دھمکی دے رہا ہے، جو اس جزیرے پر امریکہ کا ایک علاقہ ہے۔

یوکرین کے عہدے داروں نے اس الزام کے بارے میں فوری طور پر ایک تردید جاری کی کہ اس کے اسلحے کی ایک فیکٹری نے ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے میزائلوں میں استعمال کی جانے والی انجن ٹکنالوجی فراہم کی ہو۔

وائس آف امریکہ کی یوکرین سروس نے الزام لگانے والے تجزیہ کار مائیکل ایلیمن کا انٹرویو کیا جس کے تبصرے سب سے پہلے نیو یارک ٹائمز کے ایک آرٹیکل میں شائع ہوئے۔ ان تبصروں میں زور دے کر کہا گیا تھا کہ روس بھی اس فراہمی کا ایک ذریعہ ہو سکتا تھا۔

یوکرین کسی بھی ایسے بھی خیال کو مسترد کرنا چاہتا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو مسلح کرنے میں مدد کرے گاجب کہ پیانگ یانگ گوام پر میزائل داغنے کی دھمکی دے رہا ہے، جو اس جزیرے پر امریکہ کا ایک علاقہ ہے۔

یوکرین کے عہدے داروں اور تجزیہ کاروں نے فوری طور پر ان الزامات کی ترديد کی کہ سوویت دور کے اسلحے کی ایک فیکٹری امکانی طور پر شمالی کوریا کے میزائلوں میں استعمال کی گئی انجن ٹکنالوجی کی فراہمی کا ایک ذریعہ ہو سکتی تھی۔ یوکرین کے رزوم کوف سینٹر کےتجزیہ کار مکولا سون ہورووسکی کہتے ہیں کہ اسے برآمدات کے ضابطوں کو نظر انداز کرکے فراہم کرنا بالکل ممکن نہیں ہے ۔ا س کے بعد شمالی کوریا کے لیے انجن حاصل کرنے کے لیے جو کچھ ممکن ہے وہ روس میں راکٹ کے حصے الگ ہونے کے بعد باقی رہ جانے والے انجن تھے ۔ ایسا ممکن ہو سکتا تھا۔

نیو یارک ٹائمز میں مصنف کی جس ریسرچ رپورٹ کا حوالہ دیا گیا اس میں کہا گیا ہے کہ پیانگ یانگ کو غالباً یوکرین کے اندر سے غیر قانونی مدد ملی، لیکن اس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ مدد روس سے بھی مل سکتی تھی۔ انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے تجزیہ کارمائیکل ایلیمن کہتے ہیں کہ اس بارے میں بالکل درست طور پر بتانا مشکل ہے کہ اس کی منتقلی کس طرح ہو سکتی تھی۔ لیکن میرا خیال ہے کہ امکان یہ ہے کہ ذریعہ روس یا یوکرین ہے۔

دوسرے تجزیہ کار زور دے کر کہتے ہیں کہ شمالی کوریا اپنے انجن خود بنا سکتا ہے اور اسے مدد کی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن تمام کا اس پر اتفاق ہے کہ یوکرین کی جانب سے چھان بین کی درخواست اچھا خیال ہے۔

یہ الزامات ایسے میں سامنے آئے جب شمالی کوریا نے امریکہ کے جزیرے کے ایک علاقے گوام کے قریب میزائل داغنے کی دھمکی دی ۔

یوکرین کے کچھ ماہرین کو فکر ہے کہ یہ الزامات امریکہ کی جانب سے اس بارے میں کیے جانے والے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ آیا وہ یوکرین کو روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے دفاعی ہتھیار فراہم کرے یا نہ کرے ۔

یوکرین میں سینٹر فار آرمی کے تجزیہ کارآئیورفیڈک کہتے ہیں کہ یوکرین کو ہلاک خیز ہتھیاروں کی منتقلی کے امکان کے بارے میں گفتگو جاری ہے ۔ یہ واقعہ کارروائی پر منفی إثر ڈال سکتا ہے ۔

اب جبکہ ایلیمن کے الزامات کی چھان بین ہو رہی ہے، شمالی کوریا کی حکومت یہ کہتے ہوئے بظاہر گوام کے لیے اپنی دھمکی سے پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی ہے کہ وہ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرے گی کہ امریکہ مزید کیا اقدامات کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG