رسائی کے لنکس

احمدیوں کی فوج میں بھرتی پر پابندی عائد کی جائے: کیپٹن (ر) صفدر


سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکنِ قومی اسمبلی کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد صفدر نے افواجِ پاکستان میں احمدیوں (قادیانیوں) کی بھرتی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کیپٹن صفدر نے اعلان کیا کہ وہ افواجِ پاکستان میں قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرتیوں پر پابندی کے لیے ایوان میں قرارداد پیش کریں گے۔

اپنی تقریر میں کیپٹن صفدر نے اسلام آباد کی 'قائد اعظم یونیورسٹی' میں شعبۂ طبعیات کا نام بھی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔

قائداعظم یونیورسٹی کے شعبۂ طبعیات کا نام وفاقی حکومت نے چند ماہ قبل ہی طبعیات میں نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر رکھا تھا جو احمدی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔

قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کیپٹن صفدر نے کہا کہ اگر ڈپارٹمنٹ کا نام تبدیل نہ کیا گیا تو وہ روزانہ اسمبلی میں احتجاج کریں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کہ عدلیہ میں بیٹھے لوگوں سے ختمِ نبوت کے سرٹیفکیٹ پر دستخط لینا چاہئیں جب کہ سیاسی جماعتیں بھی انتخابات میں امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت ختمِ نبوت کا سرٹیفکیٹ لیں۔

انہوں نے ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز احمدیوں کو برطرف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

دریں اثنا احمدیہ جماعت نے حکمران جماعت کے رکنِ قومی اسمبلی کے اس بیان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے لوگ پاکستان کے وفادار ہیں اور انہوں نے قیامِ پاکستان کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات ذرائع ابلاغ پر نہیں آنے چاہئیں۔

پاکستان کی پارلیمان نے 1973ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا جس کے بعد سے اس مذہب کے ماننے والے اپنے خلاف امتیازی سلوک کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

ماضی میں پاکستان میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں اور اس مذہب کے ماننے والوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG