رسائی کے لنکس

شمالی کوریا نے اپنے ایک فوجی کے فرار کے بعد  سرحدی گارڈ تبدیل کر دیے


شمالی کوریا کے اہلکار سرحد کے قریب خندق کھود رہے ہیں

شمالی کوریا نے اپنے ایک فوجی کے وفا داری بدلتے ہوئے فرار ہو کر جنوبی کوریا پہنچنے کے بعد سرحد پر متعین گارڈ تبدیل کر دیے ہیں اور جنوبی کوریا کے ساتھ متصل سرحد کے چند حساس مقامات کی نگرانی انتہائی سخت کر دی ہے۔ دوسری جانب فرار ہونے والے شمالی کوریائی فوجی کو بچانے میں مدد دینے پر تین جنوبی کوریائی اور تین امریکی فوجیوں کو تمغے دئے گئے ہیں۔

شمالی کوریا کے اس فوجی پر فرار ہوتے ہوئے اُس کے ساتھی شمالی کوریائی فوجوں نے فائر کھول دیا تھا اور وہ گولی لگنے سے زخمی ہو گیا تھا۔ گولی لگنے کے بعد جن جنوبی کوریائی اور امریکی فوجیوں نے اسے گھسیٹ کر محفوظ مقام تک پہنچنے میں اُس کی مدد کی تھی، اُنہیں خصوصی میڈلز سے نوازا گیا ہے۔

سیول میں متعن سفارتکاروں کے ایک گروپ نے بدھ کی صبح شمالی کوریا کے ساتھ متصل سرحد JSA کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے دیکھا کہ شمالی کوریا کے اہلکار اُس جگہ خندق کھود رہے ہیں جہاں سے مذکورہ فوجی سرحد پار کر کے جنوبی کوریا میں داخل ہوا تھا۔ اس فوجی کی جیپ ایک چھوٹی کھائی میں پھنس گئی تھی جس کے بعد اُس نے بھاگ کر سرحد عبور کی تھی۔

جنوبی کوریا میں امریکہ کے قائم مقام سفیر مارک کنیپر نے اس مقام کے دورے کے بعد ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ہم سرحد کے اُس پار شمالی کوریا کے ورکرز کو خندقیں کھودتے دیکھ رہے تھے جبکہ شمالی کوریائی فوجی نگرانی کیلئے وہاں کھڑے تھے۔

جنوبی کوریا کی یان ہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق شمالی کوریائی فوجی کے فرار کے وقت وہاں موجود گارڈ کے 35 سے 40 فوجیوں کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے نیوز رپورٹروں کو بتایا کہ اُن کی حکومت سرحد پار شمالی کوریائی فوج کی نقل و حرکت کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم اُس نے کہا کہ وہ تمام تفصیل کا کچھ ہی حصہ بتانے کا پابند ہے۔

سفارتی نمائیندوں نے مزید بتایا ہے کہ نئی کھودی گئی خندق اور سرحد کے درمیان دو نئے درخت لگائے گئے ہیں جس کی بظاہر وجہ مستقبل میںٕ ایسے کسی واقعے میں کسی فوجی کی طرف سے گاڑی بھگانے کے امکان کو روکا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG