رسائی کے لنکس

جرائم پر مبنی بھارتی ٹی وی سیریل کے اینکر کو قتل کے جرم میں سزا


صہیب الیاسی اور ان کی اہلیہ انجو، فائل فوٹو
صہیب الیاسی اور ان کی اہلیہ انجو، فائل فوٹو

یوسف جمیل

بھارت میں جرم اور جرم کی تفتیش سے متعلق مقبول ٹیلی وژن سیریل ' انڈیاز موسٹ وانٹیڈ' کے میزبان صہیب الیاسی کو دلی کی ایک عدالت نے اپنی اہلیہ کے قتل کا قصور وار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

الیاسی کی بیوی 30سالہ انجو الیاسی 11 جنوری 2000 کو مشرقی دلی میں واقع اُن کے گھر میں مردہ پائی گئی تھی ۔ ان پر خنجر سے کئی وار کئے گئے تھے اور نعش پر گہرے زخموں کے واضح نشانات پائے گئے تھے۔

صہیب الیاسی نے اسے خود کُشی کا واقعہ قرار دیا تھا۔ لیکن تین ماہ کے بعد پولیس نے انہیں جہیز کے معاملے میں اپنی بیوی کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

بُدھ کو دلی کی کڑکڑ ڈوما عدالت نے51 سالہ صہیب کو انجو کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔

صہیب الیاسی، دہلی کی عدالت کے باہر۔ 20 دسمبر 2017
صہیب الیاسی، دہلی کی عدالت کے باہر۔ 20 دسمبر 2017

ایڈیشنل سیشنز جج ایس کے ملہوترہ نے ان پر دو لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے انجو کے والدین کو دس لاکھ روپے معاوضے کے طور پر ادا کرنے کا حکم صادر کیا۔

سرکاری وکیل نے اس مقدمے میں پھانسی کی سزا دینے کی مانگ کی لیکن 'انڈیاز موسٹ وانٹیڈ' سیریل کی شہرت کے بعد خودخبروں کا موضوع بننے والے پروڈیوسر اور اینکر نے کہا کہ وہ بے قصور ہیں۔

صہیب اور انجو1989 میں دلی کی مشہور دانشگاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک ساتھ پڑھتے تھے ۔ اسی دوران دونوں کے درمیان دوستی ہوئی جو محبت میں بدل گئی۔

انجو کے گھر والوں نے اس رشتے کی مخالفت کی ۔جس کے بعد وہ دونوں لندن چلے گئے اور گھروالوں کی مخالفت کے باوجود صہیب اور انجو نے 1993میں لندن میں شادی کرلی۔

استغاثہ کے مطابق صہیب نے اپنےجرم کا جو اسکرپٹ تیار کیا وہ نہایت شاطرانہ تھا۔ اس نے اپنے جرم اور اس کے شواہد کو اس طرح مٹا دیا کہ شروع میں تو سب کو اس کی بے گناہی پر یقین آنے لگا تھا، لیکن انجو کے گھر والوں کی طرف سے ایف آئی آر درج کرانے کے بعد جب پولیس نے گہرائی میں جا کر جانچ کی تو صہیب کی کہانی اور دعوے جھوٹے ثابت ہوئے اور اسے اپنی بیوی کے قتل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔

انجو کی والدہ رکما سنگھ اور بہن رشمی سنگھ نے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کو بتایا تھا کہ صہیب نے اپنی بیوی کو خود کشی کرنے پر مجبور کیا تھا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ یہ ثابت نہیں ہو سکا تھا کہ آیا انجو نے خود کشی کی ہے یا اُسے قتل کیا گیا ہے۔

کئی سال بعد انجو کی والدہ نے مطالبہ کیا کہ صہیب پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔ نچلی عدالت نے جہاں کیس چل رہا تھا، یہ مطالبہ مسترد کردیا لیکن دلی ہائی کورٹ نے انجو کی والدہ اور بہن کی طرف سے 2014 میں دائر کی گئی ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نچلی عدالت سے صہیب پر قتل کے الزام میں مقدمہ چلانے کے لئے کہا تھا۔

انجو ایک ایسے وقت میں اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں جب 'انڈیاز موسٹ وانٹیڈ' کے پروڈیوسر اور ہوسٹ کی حیثیت سے صہیب کی شہرت عروج پر تھی۔

'انڈیاز موسٹ وانٹیڈ' بھارت میں جرم و سزا پہلی سیریز تھی۔ اس کے بعد صہیب نے ایک اور ٹی وی شو شر وع کیا تھا لیکن وہ کامیاب نہ رہا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک میگزین 'بیوروکیسی ٹوڈے' جاری کیا۔ یہ رسالہ جو سرکاری ملازمین اور حکومت کے معاملات پر مبنی تھا دلی کے متمول علاقے کستوربا گاندھی مارگ کی ایک مسجد سے شائع کیا جاتا رہا جہاں صہیب کے والد بڑے مبلغ و امام تھے-

XS
SM
MD
LG