رسائی کے لنکس

’کسی کو غیر معینہ مدت کیلئے حراست میں نہیں رکھا جا سکتا‘


اس موقع پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ’’کسی کو غیر معینہ مدت کیلئے حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بدقسمتی سے خفیہ اداروں نے عدالت کو سچ نہیں بتایا۔ عدالت میں سچ نہ بولنے سے خفیہ ادارے اپنی ساکھ کھو چکے ہیں‘‘

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس دوست محمد نے کہا ہے کہ ’’اگر کسی نے جرم کیا ہے تو قانون کے مطابق سزا دیں۔ سالہا سال سے لوگ خفیہ حراست میں ہیں۔ آئین کہتا ہے 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کریں۔خفیہ حراست غیر آئینی اور غیر قانونی ہے‘‘۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا ہے کہ ’’بدقسمتی سے خفیہ اداروں نے عدالت کو سچ نہیں بتایا‘‘۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ’’کسی کو غیر معینہ مدت کیلئے حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بدقسمتی سے خفیہ اداروں نے عدالت کو سچ نہیں بتایا۔ عدالت میں سچ نہ بولنے سے خفیہ ادارے اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔‘‘

سماعت کے دوران لاپتہ ہونے والے شہری فیصل فراز کی ماں عدالت میں پیش ہوئی اور کہا کہ’’12 سال ہو گئے ہیں، لیکن عدالت بیٹے کا پتہ نہ لگا سکی‘‘۔ بقول اُن کے، ’’یہ ریاست نہیں مرے گی، مگر ہم نے جانا ہے۔‘‘

ایک اور لاپتہ شخص تاسف ملک جس کی اہل خانہ سے ملاقات کا حکم عدالت نے گذشتہ سماعت پر جاری کیا تھا اس کے حوالے سے سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تاسف ملک کی حراستی مرکز میں اہلخانہ سے ملاقات کرا دی گئی ہے۔ اس پر تاسف ملک کے سسر نے عدالت میں کہا کہ ’’صرف تین منٹ کی ملاقات کروائی گئی، جس کے دوران بھی چار گارڈ کھڑے تھے‘‘۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ’’ہم جاننا چاہتے ہیں کہ تاسف ملک پر الزام کیا ہے۔ کس جرم میں کس قانون کے تحت قید ہے‘‘۔ لیکن، سرکاری وکیل اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

جسٹس اعجاز افضل نے ایک اور لاپتہ شخص عادل خان کے حوالے سے استفسار کیا اور کہا کہ عادل خان کا کچھ پتہ چلا؟ اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ’’ایجنسیوں کو لکھا ہے اور جواب کا انتظار ہے‘‘۔

سماعت کے موقع پر کمرہٴ عدالت میں موجود آمنہ مسعود نے کہا کہ ’’سات سال ہوگئے ہیں اور لاپتہ افراد کے ورثا قطار میں لگے ہوئے ہیں۔ سات ماہ بعد ایک لاپتہ کے مقدمے کی باری آتی ہے۔ یہ انصاف دینے کا 30 سالہ منصوبہ ہے‘‘۔

جسٹس اعجاز افضل نے ایک اور لاپتہ مدثر اقبال کیس کے حوالے سے پوچھا اور کہا کہ اس کیس میں کیا پیش رفت ہے۔ جس پر بتایا گیا کہ ’’ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق، اس شخص کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔‘‘

آمنہ مسعود کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مدثر اقبال کا ذکر ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مدثر خفیہ تحویل میں ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ حراستی مراکز میں موجود افراد کا ٹرائل کیوں نہیں کیا جاتا، جبکہ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ آئین کی کتاب کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیئے۔

کیس کی سماعت نو جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک عرصہ سے زیر التوا ہے اور درجنوں کی تعداد میں عام شہری لاپتہ کردیے گئے اور ان کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ ان لاپتہ افراد کے لواحقین کبھی سپریم کورٹ اور کبھی لاپتہ افراد کے کمیشن کے سامنے التجائیں کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب تک کئی افراد کو بازیاب نہیں کروایا جا سکا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG