رسائی کے لنکس

logo-print

13 مزید دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق


فائل فوٹو

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 202 افراد کے قتل میں ملوث 13 دہشت گردوں کی سزائےموت کی توثیق کردی ہے جبکہ 7 دیگر دہشت گردوں کو قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ ان دہشت گردوں کے خلاف ملٹری کورٹ میں مقدمات چلائے گئے اور انہوں نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم بھی کیا ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق سزائے موت پانے والوں میں منیر احمد ،محمد بشیر، حافظ عبداللہ، بخت اللہ خان، شاہ خان، محمد سہیل خان، داؤد شاہ، محمد منیر، حبیب اللہ، محمد آصف، گل شاہ، جلال حسین اور علی شیر شامل ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تمام دہشت گرد مسلح ا فواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور تعلیمی اداروں کی تباہی اور عام شہریوں کے قتل میں ملوث تھے اور ان پر مجموعی طور پر 202 افراد کے قتل کا الزام ثابت ہوا جن میں 151 عام شہری جبکہ 51 سیکیورٹی اہلکار شامل تھے۔ ان دہشت گردوں کے حملوں میں 249 افراد زخمی بھی ہوئے اور اُن کے قبضے سے دھماکا خیز مواد اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ۔

پاکستان میں باقاعدہ آئینی ترمیم کے ذریعے بننے والی فوجی عدالتوں کی جانب سے اب تک تین سو سے زائد دہشت گردوں اور مجرمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں لیکن ان میں سے بہت کم پر عمل درآمد ہوا ہے۔ بیشتر دہشت گردوں کو ملٹری عدالتوں سے سزائیں ملیں جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کررکھی ہیں جن پر کارروائی جاری ہے۔

انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں ان عدالتوں کی کارروائی کی شفافیت پر بھی سوال اٹھاتی ہیں کہ جہاں ملزمان کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم نہیں کیا جاتا اور ان عدالتوں کی کارروائی کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG