رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ پیرس میں جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب میں شرکت کریں گے


فرانس کے صدر میکرون، ملک کے مشرقی حصے میں پہلی جنگ عظیم کی یادگار کے دورے کے موقع پر سابق فوجیوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ 7 نومبر 2

اختتام ہفتہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے بہت سے عالمی راہنما جنگ عظیم اول کی اس جنگ بندی کی صد سالہ تقربیات میں شرکت کے لیے فرانس میں اکھٹے ہو رہے ہیں، جس کے تحت وہ جنگ ختم ہوئی تھی۔

اس وقت امریکہ اور امریکی اتحادیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور فرانس نے تو یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ جیو پولیٹیکل فضا عالمی جنگوں کی جانب بڑھتے ہوئے دور کی یاد دلاتی ہے۔

اس ہفتے جنگی دور کے جنگی میدانوں کا دورہ کرتے ہوئے فرانسیسی صدرایمانوئل میکرون نے خطے کو لاحق موجودہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے فرانسیسی ریڈیو پر کہا کہ یورپ کو خود اپنی فوج تشکیل دینی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خود کو چین سے، روس سے اور حتیٰ کہ امریکہ سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔

فرانسیسی عہدے داروں نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی کی جانب سے وسط مدتی انتخاب میں ایوان نمائندگان کا کنٹرول کھونے سے امریکہ کے ساتھ فرانس کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

امریکی صدر ہفتے کے روز فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ مذاكرات کریں گے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوٹن کے ساتھ جس ملاقات کی افواہیں ہیں وہ انجام پائے گی یا نہیں۔

ٹرمپ بعد میں بیلو و وڈ کا دورہ کریں گے جو وہ مقام ہے جہاں امریکی فوجیوں نے ایک انتہائی سے خونریز جنگ لڑی تھی۔

اس لڑائی میں 1811 امریکی فوجی اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب انہوں نے جرمن چوکیوں پر حملہ کیا تھا۔ بیشتر لڑائی دست بدست ہوئی تھی۔ تین ہفتوں کی لڑائی کے بعد امریکی فوجیوں نے 26 جون 1918 کو بیلو ووڈ پر قبضہ کر لیا تھا۔

فرانسیسی مورخ جین مائیکل سٹیگ کہتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کو دشمن کی شدید فائرنگ کا سامنا ہوا تھا۔ اور بجائے پسپائی اختیار کرنے کے اور پیچھے ہٹنے کے اور توپوں کی کمک کا انتظار کرنے کے، جو جنگ کے اس دور میں فوجیوں کا معمول کا رویہ ہوتا تھا، وہ پر جوش رہے۔

جنگ کے خاتمے تک ایک لاکھ 16 ہزار امریکی فوجی یورپ کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے تھے۔ ایک سو سال بعد بین البر اعظمی تعلقات کشیدہ ہیں لیکن اتحاد برقرار ہے۔

امریکی فوجی قبرستان موسے ارگون کے سپرنٹنڈنٹ بروس مالون جونیئر کہتے ہیں کہ ان طاقتوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ آسان نہیں تھے۔ اور اس کی وجوہات ہیں۔ لیکن جب آپ یہاں آتے ہیں جہاں ان دیہاتوں کے لوگ یاد کرتے ہیں، تو امریکی فوجیوں کے لیے بہت احترام ہوتا ہے۔

قریب واقع ایک میوزیم میں جنگی میدانوں کی ہزاروں چیزیں رکھی گئی ہیں اور اگلے محاذ کے فوجیوں کی زندگی کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ اس میوزیم کے مالک جین پال ڈی وریز کہتے ہیں کہ میں اس میوزیم میں آنے والوں کو یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اگر آپ ان ہیلمٹس کو اتار دیں تو یہ سب انسان ہی ہیں۔

جنگ کے دوران تمام فریقوں کے 4 کروڑ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ انہیں اتوار کے روز پیرس میں منعقد ہونے والی جنگ بندی کی صد سالہ تقریب میں یاد کیا جائے گا جس میں درجنوں عالمی راہنما شرکت کریں گے۔

صدر ٹرمپ بعد میں الگ سے ایک امریکی قبرستان میں ویٹرنز ڈے کی ایک تقریب میں شریک ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG