رسائی کے لنکس

logo-print

جیفری ڈکلن لینگ لینڈ: ایک فوجی سے استاد تک کا کامیاب سفر


پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع ایچی سن اسکول اینڈ کالج کے سابق اُستاد جیفری ڈکلن لینگ لینڈ لاہور میں انتقال کر گئے۔ اُن کی عمر ایک سو ایک سال تھی۔ وہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کے بھی استار رہے ہیں۔

جیفری ڈکلن لینگ لینڈ اکیس اکتوبر انیس سو سترہ کو انگلینڈ کے علاقے یارک شائر میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ برٹش آرمی میں افسر بھر تی ہوئے اور بطور میجر ریٹائر ہوئے۔

لینگ لینڈ نے دوسری جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا۔ جس کے بعد برٹش انڈیا نے اِنہیں پاکستان بھیج دیا۔ میجر ریٹائر ہونے کے بعد وہ چھ سال تک انسٹرکٹر رہے۔

جنرل ایوب خان کی درخواست پر اُنہوں نے واپس لندن جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور انیس سو چون میں ایچی سن میں استاد مقرر ہوئے۔ میجر لینڈ انیس سو چوہتر میں ایچی سن میں پریپ اسکول کے ہیڈ ماسٹر بنے۔

ایچی سن کالج کے شعبہ اردو کے سابق ہیڈ ڈاکٹر عالم خان جو میجر لینڈ کے ساتھی بھی رہے انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میجر لینڈ جسمانی طور پر بہت فٹ آدمی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی پاکستان کے لیے وقف کر دی۔‘

ان کے مطابق ’ وہ بہت مخلص انسان تھے ہر وقت کسی نہ کسی کام میں لگے رہتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستانی طلبا و طالبات کو علم دینے اور ڈسپلن سکھانے میں گزار دی۔‘‘

جیفری ڈکلین انیس سو انہتر میں رزمک کیڈٹ کالج کے پرنسپل تعینات ہوئے اور انیس سو نواسی تک اِسی عہدے پر کام کیا۔ اس عرصہ میں وہ اِغوا بھی ہوئے لیکن اغواکار تعلیم سے اُن کی محبت کم نہ کر سکے۔

اِس کے بعد وہ پاکستان کے شمالی علاقے چترال چلے گئے۔ اپنی جمع پونجی اور مقامی افراد کے تعاون سے یورج پبلک اسکول چترال بنایا جس کا نام بعد ازاں لینگ لینڈز اسکول اینڈ کالج چترال رکھ دیا گیا جہاں وہ پچانوے برس کی عمر تک پرنسپل رہے۔

صوبہ پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان جن کے بڑے بھائی میجر لینڈ کے شاگرد تھے۔ ان کے مطابق اُن کے بھائی اکثر اپنے اُستاد کا بہت ذکر کرتے تھے اور وہ جب خود بھی انہیں ملے تو میجر لینڈ کو بہت مختلف شفیق اور بہت زبردست انسان پایا۔

ان کے مطابق اِس سے بڑی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ جنہوں نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی جس کی بنیادی وجہ وہ یہاں تعلیم کے لیے کام کرنا چاہتے تھے طالبعلموں کو پڑھانا چاہتے تھے۔ تعلیم کے لیے اُن کی بہت خدمات ہیں،انہوں نے ایچی سن ، پٹارو اور چترال میں پڑھایا۔ اُن کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے‘‘

جیفری ڈکلن لینگ لینڈ کو ان کی انسانیت اور تعلیمی خدمات کے عوض پاکستانی حکومت نے ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز جبکہ برطانوی حکومت اور ملکہ برطانیہ نے مختلف اعزازات سے نوازا۔

پاکستان میں نجی ٹیلیویژن جیو ٹی وی سے منسلک صحافی سہیل وڑائچ جنہوں نے میجر لینڈ کے سب سے زیادہ انٹرویوز کیے تھے وہ سمجھتے ہیں کہ جیفری ڈکلن بہت خوش مزاج اور محبت کرنے والی طبیعت کے مالک تھے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں ’انہوں نے پاکستان کو ہی اپنا ملک بنایا وہ یہیں مرنا چاہتے تھے۔ ان کی سرکاری رہائش ایچی سن کالج میں تھی۔ پاکستانی حکومت اور ایچی سن کالج اُن کا میزبان تھا۔ اُنہیں پڑھانے سے بہت لگاؤ تھا۔ وہ پاکستانی قوم کو پڑھانا چاہتے تھے اور وہ پاکستانیوں سے بہت محبت کرتے تھے۔‘‘

میجر ریٹائرڈ جیفری ڈکلن لینگ لینڈ پر مارچ دو ہزار سترہ میں فالج کا حملہ ہوا۔ ان کے انتقال پر وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنے اُستاد کے انتقال پر بہت رنجیدہ ہیں جنہوں نے اُن میں کوہ پیمائی کا شوق پیدا کیا۔‘

میجر لینگ لینڈ کے شاگردوں میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن، یوسف صلاح الدین، چوہدری نثار، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اسلم رئیسانی اور دیگر شامل ہیں۔

مرحوم کی آخری رسومات اتوار کے روز ادا کی جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG