رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور لاہور ہے لیکن لاہور قلندرز؟


لاہور قلندرز کا 2019 کا سکواڈ

کہاوت مشہور ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ لاہور کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لاہور لاہور ہے۔ مراد یہ ہے کہ لاہور جیسا کوئی اور شہر دنیا میں نہیں ہے۔

لاہور کا یہ تاثر اس کی روایات، مخصوص ثقافت اور اپنی الگ پہچان کی وجہ سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان سوپر لیگ کا آغاز ہوا تھا تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اس میں شامل ہونے والی لاہور کی ٹیم ’لاہور قلندرز‘ اس شہر کی ساکھ اور شہرت میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔ تاہم اس سال چوتھی پاکستان سوپر لیگ کا پلے آف راؤنڈ مکمل ہونے کے بعد لاہور قلندر پہلے تین پی ایس ایل کی طرح ٹیموں کی فہرست میں آخری نمبر پر ہی رہی اور ٹورنمنٹ سے باہر گئی۔

لاہور قلندر کے مالک رانا فواد نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لاہوریوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم ایک بار پھر اُن کی توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔ اُن کا کہنا ہے کہ لاہور قلندر مسلسل ہارتے رہنے سے تھک چکی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی آخر وجہ کیا ہے کہ ایک ایسا شہر جس نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو بے شمار بہترین کرکٹر فراہم کئے، وہ پی ایس ایل میں ایک بار بھی پلے آف راؤنڈ سے آگے کیوں نہ بڑھ سکی۔

چاروں سیزنز میں کاکردگی

موجودہ سیزن میں پلے آف مرحلے میں کھیلے گئے دس میچوں میں سے لاہور قلندر صرف چار میچ جیت سکی۔ ہر میچ میں کل 24 کھلاڑیوں میں سے مختلف ٹیم اے بی ڈویلئرز، محمد حفیظ اور فخر زمان کی قیادت میں میدان میں اتاری گئی۔ ٹیم کے چیف آپریٹنگ افسر سمین رانا کا کہنا ہے کہ کسی بھی میچ میں لاہور قلندر اپنی بہترین کومبی نیشن کو میدان میں نہ اتار پائی اور بقول اُن کے یہی لاہور قلندر کی خراب کارکردگی کی وجہ ہے۔

لاہور قنلدرز کو تمام سیزنز میں کھیلے گئے کل 30 میچوں میں سے 18 میں شکست کی ہزیمت اُٹھانی پڑی۔

پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن میں لاہور قلندر نے ویسٹ انڈیز کے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنے والے کرس گیل کو شامل کیا۔ تاہم وہ دبئی پہنچنے سے پہلے ہی زخمی ہو گئے۔ اُنہوں نے اپنی انجری کے ساتھ پانچ میچوں میں حصہ لیا لیکن وہ ان میں صرف 20.6 کی اوسط سے رنز بنا سکے۔ اس کے بعد لاہور قلندرز نے دوسرے سیزن کیلئے اُنہیں کراچی کنگز کو ٹریڈ آف کر دیا۔

دوسرے سیزن میں ٹیم کے اہم ترین بالر یاسر شاہ کو ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے باعث آئی سی سی کی طرف سے تین ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا اور یوں وہ ٹورنمنٹ سے باہر ہو گئے۔ اسی سیزن میں بنگلہ دیش کے کھلاڑی مستفیض الرحمان بھی ٹورنمنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی زخمی ہو گئے اور ٹیم کیلئے دستیاب نہ رہے۔ دوسرے سیزن میں لاہور قلندرز کو شان ٹیٹ، ڈوائن براوو اور اینٹن ڈیوچ کی خدمات بھی زخمی ہو جانے کے باعث دستیاب نہ ہو سکیں۔

تیسرے ایڈیشن میں لاہور قلندر کو نئے منتخب ہونے والے کھلاڑی کرس لن سے بہت اُمیدیں تھیں۔ لیکن وہ بھی کندھے میں چوٹ لگنے کے بعد ٹیم سے باہر ہو گئے۔ اسی طرح کراچی سے ٹریڈ کئے گئے کھلاڑی سہیل خان بھی کمر میں چوٹ لگنے کے باعث کھیل نہ سکے۔ ان کے علاوہ پہلے دو سیزن میں کپتانی کرنے والے بریڈن میکلم بھی تیسرے سیزن میں کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے۔

ان مسلسل ناکامیوں کے باوجود لاہور قلندرز نے نئے ٹیلنٹ کی تلاش کیلئے جامع پروگرام جاری رکھے۔ یوں لاہور کے شہریوں کی طرف سے لاہور قلندرز سے اُمیدیں برقرار رہیں۔ تاہم پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن میں بھی ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی اور پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر رہی۔

مسلسل ناکامیوں کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ لاہور قلندرز کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ ہر بار میدان میں اترنے والی ٹیم کو متوازن انداز میں نہیں چنا گیا۔ ہر بار جب ڈرافٹنگ کا وقت آیا تو لاہور قلندر کی انتظامیہ نے ممکنہ بہترین انتخاب سے گریز کیا اور اس کیلئے ایسے غیر ملکی کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جو نام تو بڑے تھے لیکن وہ اپنے کیریئر کے آخری دور سے گزر رہے تھے اور اُن کی فارم، فٹنس اور کارکردگی انتہائی مشکوک دکھائی دینے لگی۔ ان غیر ملکی کھلاڑیوں میں سب سے نمایاں کرس گیل اور برینڈن میکلم تھے جو پورے ٹورنمنٹ میں ایک بھی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر پائے جبکہ تیسرے اور شاید سب سے اہم غیر ملکی کھلاڑی جنوبی افریقہ کے سابق کپتان اے بی ڈویلیئرز زخمی ہونے کے باعث بیشتر میچوں کیلئے دستیاب ہی نہ ہو سکے۔

لاہور قلندرز نے پاکستان کے محمد حفیظ کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا۔ ماہرین کا یہی خیال تھا کہ یہ ایک اچھا انتخاب ثابت ہو گا۔ تاہم وہ بھی شروع میں ہی انگوٹھا زخمی ہونے کے باعث ان فٹ ہو گئے اور ٹیم کیلئے دستیاب نہ رہے۔ اُن کے علاوہ ملکی سٹار کھلاڑیوں میں سے صرف اوپنر فخر زمان کو ہی ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ اُن کے علاوہ پاکستان کے کسی بھی بہترین ان فارم کھلاڑیوں کو شامل نہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ جب ٹریڈ ان کا موقع آیا تو لاہور قلندر نے عمر اکمل اور سنیل نرائن جیسے کھلاڑیوں کو ریلیز کر کے اُن کی جگہ تیز بالر راحت علی اور حسن خان کو منتخب کر لیا۔ ناقدین کے مطابق اس طرح لاہور قلندر کی انتظامیہ نے بہتر کھلاڑیوں کو کھو کر نسبتاً کم بہتر کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔ اگر لاہور قلندر کی تمام تر کارکردگی کا مشاہدہ کیا جائے تو اس ٹیم کی مسلسل ہار کی وجہ باؤلنگ کے بجائے بیٹنگ کی خراب کارکردگی رہی ہے اور اس ٹرید آف کے نتیجے میں منتخب کئے گئے دونوں کھلاڑیوں نے بیٹنگ کاکردگی کو بہتر بنانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔

لاہور قلندر کے مالک رانا فواد کا کہنا ہے کہ اس بار ہار کی ذمہ داری ٹیم منیجمنٹ کے علاوہ کھلاڑیوں کو بھی قبول کرنا ہو گی۔ تاہم ٹیم کوچ عاقب جاوید کو ٹیم کی مسلسل خراب کارکردگی پر شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ ٹیم کے انتخاب سے لیکر جیت کیلئے حکمت عملی کی تیاری تک تمام معاملات کی ذمہ داری کوچ پر ہی عائد ہوتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیم کے مالک رانا فواد لاہور قلندر کی مسلسل گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG